مٹن ڈیلروں کا حکومت سے مداخلت کا مطالبہ
بلال فرقانی
سرینگر// کشمیر آنے والی بھیڑ بکریوں سے لدی گاڑیوں پر پنجاب میں مبینہ غیر قانونی ٹیکس وصولی کے خلاف جاری ہڑتال کے خاتمے اور مٹن سپلائی کی بحالی کے ایک روز بعد ہی مٹن ڈیلروں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی گاڑیوں کو دوبارہ روکا گیا اور فی گاڑی 10ہزار روپے وصول کیے گئے۔کشمیر ہول سیل مٹن ڈیلرس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری معراج الدین گنائی نے اتوار کو سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے احکامات جاری کیے جانے کے باوجود زمینی سطح پر ان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز بھی کشمیر آنے والی بھیڑ بکریوں سے لدی گاڑیوں کو روکا گیا اور ان سے فی گاڑی 10ہزار روپے وصول کیے گئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ متعلقہ حکام حکومتی احکامات کو سنجیدگی سے نافذ نہیں کر رہے ہیں۔معراج الدین گنائی نے جموں و کشمیر حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کرے اور ایک اعلیٰ سطحی وفد پنجاب روانہ کرے تاکہ یہ مسئلہ سرکاری سطح پر اٹھایا جاسکے اور اس کا مستقل حل نکالا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی سے کشمیر کے مٹن تاجروں کو اس مسئلے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے، تاہم اب تک اس کا کوئی موثر اور دیرپا حل نہیں نکالا گیا۔گنائی کے مطابق، گزشتہ روز کے واقعے کے بعد انہوں نے متعلقہ حکام سے رابطہ بھی کیا، تاہم مبینہ طور پر حکومتی حکم نامے کو خاطر میں نہیں لایا گیا اور وصولی کا سلسلہ جاری رہا۔انہوں نے کہا کہ 12 روزہ ہڑتال کے دوران مٹن صنعت کو تقریباً 100کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا، جس سے تاجروں کے ساتھ ساتھ عام صارفین بھی متاثر ہوئے۔انہوں نے یاد دلایا کہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے اس معاملے پر پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان کو مکتوب روانہ کیا تھا، جبکہ سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے بھی پنجاب حکومت سے رابطہ کرکے مسئلے کے حل اور مبینہ غیر قانونی وصولیوں کے خاتمے پر زور دیا تھا۔مٹن ڈیلروں نے مطالبہ کیا کہ پنجاب حکومت اپنے احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے تاکہ کشمیر آنے والی بھیڑ بکریوں کی گاڑیوں کو بلاجواز نہ روکا جائے اور تاجروں کو مزید مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔