عظمیٰ نیوزسروس
پلوامہ// ضلع پلوامہ کے بونیرا فیلڈسٹیشن میں لیونڈر فصل کی کٹائی کا آغاز ہو گیا، جس کے ساتھ ہی جموں و کشمیر میں دواؤں اور خوشبودار پودوں کی تجارتی کاشت کو فروغ دینے کی ایک اور اہم کوشش کا آغاز ہوا۔بونیرا فیلڈ سٹیشن،سی ایس آئی آر – انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انٹیگریٹو میڈیسن کا ایک تحقیقی فارم ہے، جہاں یہ کٹائی ادارے کے پرپل پروجیکٹ کے تحت کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد لیونڈر کی تجارتی کاشت کی افادیت کو ثابت کرنا اور کسانوں کو زیادہ منافع بخش خوشبودار فصلوں کی طرف راغب کرنا ہے۔حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت کسانوں کو معیاری پودے، سائنسی طریقہ کاشت، فصل کی پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، معیار کی جانچ اور مارکیٹ تک رسائی سمیت مکمل معاونت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ خوشبودار فصلوں کی کاشت کے ذریعے ان کی آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔اس موقع پرسی ایس آئی آر – آئی آئی آئی ایم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر زبیر احمد نے کہا کہ مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کی رہنمائی میں ادارے نے دواؤں اور خوشبودار پودوں کے شعبے کو مضبوط بنانے اور دیہی علاقوں میں پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے چار اہم مشن شروع کیے ہیں۔ان میںاروما مشن ،فلوری کلچر مشن،فائٹو فارماسیوٹیکل مشن اورہمالین بائیو ریسورس پراسپیکشن مشن شامل ہیں۔ڈاکٹر زبیر احمد نے کہا کہ یہ تمام مشن براہِ راست یا بالواسطہ دواؤں اور خوشبودار پودوں سے وابستہ ہیں اور ان کا بنیادی مقصد کسانوں کے لیے پائیدار ذریعہ معاش فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر حیاتیاتی تنوع (بایو ڈائیورسٹی) کے اعتبار سے ایک اہم خطہ بن کر ابھرا ہے، جہاں دواؤں اور خوشبودار پودوں کی کاشت کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ چیف سیکریٹری کی نگرانی میں میڈیسنل اینڈ ارومیٹک پلانٹس مشن تشکیل دے رہی ہے تاکہ اس شعبے کی ترقی کو مزید تیز کیا جا سکے۔بونیرا فیلڈ اسٹیشن کے انچارج سائنس دان ڈاکٹر شاہد رسول نے اس مرکز کو ایک’فعال تجربہ گاہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں جدید زرعی ٹیکنالوجی کو حقیقی کھیتوں میں آزمایا جاتا ہے، جس کے بعد اسے کسانوں اور دیگر متعلقہ افراد تک منتقل کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہر نمائشی پلاٹ کئی برسوں کی سائنسی تحقیق کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد پیداوار میں اضافہ، ضروری تیل (ایسنشل آئل) کے معیار کو بہتر بنانا اور فصلوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابل زیادہ مضبوط بنانا ہے۔‘‘ڈاکٹر شاہد رسول کے مطابق اس مرکز کی سرگرمیاں صرف تحقیق تک محدود نہیں بلکہ کسانوں کی تربیت، زرعی اسٹارٹ اپس کی معاونت، نئی ٹیکنالوجی کی تجارتی ترویج اور پائیدار دیہی کاروبار کو فروغ دینا بھی اس کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا، ’’بونیرا کے جامنی کھیت اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ سائنسی مہارت، جدت طرازی اور دیہی ترقی کو کامیابی سے یکجا کیا جا سکتا ہے۔‘‘سری نگر سے تقریباً 40 کلومیٹر دور واقع 60 ہیکٹر پر محیط بونیرا فیلڈ اسٹیشن ایک اہم تحقیقی اور نمائشی مرکز ہے، جہاں کسانوں کو سائنسی طریقہ کاشت کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہاں فصل کی کٹائی کے بعد پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کی جدید ٹیکنالوجی بھی متعارف کرائی جاتی ہے تاکہ خوشبودار فصلوں سے کسانوں کو زیادہ منافع حاصل ہو سکے۔سی ایس آئی آر – آئی آئی آئی ایم کے اروما مشن کے تحت جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں لیونڈر کی کاشت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور یہ فصل علاقے کی آب و ہوا سے مطابقت رکھنے والی ایک منافع بخش متبادل فصل کے طور پر ابھر رہی ہے، جو کسانوں کو اپنی آمدنی کے ذرائع متنوع بنانے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔