عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں/سالانہ شری امرناتھ جی یاترا کا جمعہ کے روز باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ یاتریوں کے پہلے قافلے نے بالتل اور ننوان (پہلگام) کے دونوں بیس کیمپوں سے مقدس امرناتھ غار کی جانب سفر شروع کیا، جبکہ 3,865 عقیدت مندوں پر مشتمل دوسرا قافلہ بھی جموں سے سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان کشمیر کے لیے روانہ ہوا۔سرکاری حکام کے مطابق کہ وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کے باوجود یاترا علی الصبح روایتی 48 کلومیٹر طویل ننوان-پہلگام راستےاور 14 کلومیٹر مختصر بالتل راستےسے شروع ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ مرد، خواتین اور سادھوؤں سمیت ہزاروں یاتری ’’بم بم بھولے‘‘کے نعروں کی گونج میں بالترتیب ڈپٹی کمشنروں اور سینئر سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کی جانب سے جھنڈی دکھائے جانے کے بعد سطح سمندر سے تقریباً 3,880 میٹربلند مقدس غار کی طرف روانہ ہوئے۔
ادھر جموں کے بھگوتی نگر یاتری نواس سے یاتریوں کا دوسرا قافلہ دو سکیورٹی اسکواڈز کی نگرانی میں کشمیر کے لیے روانہ کیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1,735یاتری بالتل روٹ کے لیے صبح3:13 بجےجبکہ 2,130یاتری پہلگام روٹ کے لیے صبح3:38 بجےروانہ ہوئے، جس کے ساتھ دوسرے قافلے کی مجموعی تعداد 3,865ہوگئی۔حکام کے مطابق اس قافلے میں 2,965 مرد، 618 خواتین، 230 سادھو، 48 سادھویاں اور چار بچےشامل ہیں۔
یاتری 201 گاڑیوں کے ذریعے سفر کر رہے ہیں، جن میں 83 بسیں، 14 میڈیم موٹر وہیکلز (MMVs)اور 104 لائٹ موٹر وہیکلز (LMVs)شامل ہیں۔ حکام نے بتایا کہ ان میں سے 115 گاڑیاں بالتل جبکہ 86 گاڑیاں پہلگام بیس کیمپ کی جانب روانہ ہوئی ہیں۔یاترا کے پرامن اور محفوظ انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ نے کثیر سطحی حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ جموں و کشمیر پولیس، سی آر پی ایف** اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے اہلکار مختلف مقامات پر تعینات کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ 57 روزہ شری امرناتھ جی یاترا28 اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔حکام کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران بھگوتی نگر یاتری نواس جموں سے مجموعی طور پر8,687یاتری کشمیر روانہ ہو چکے ہیں تاکہ سالانہ شری امرناتھ جی یاترا میں شرکت کر سکیں۔
شری امرناتھ یاترا کا باقاعدہ آغاز، عقیدت مند مقدس غار کی جانب روانہ؛ دوسرا قافلہ بھی سخت حفاظتی انتظامات میں کشمیر کے لیے روانہ