ڈاکٹر شگفتہ خالدی
ہر معاشرہ انصاف دیانت داری اور قانون کی بالادستی پر قائم ہوتا ہے۔ جب کسی نظام میں رشوت سفارش اور ذاتی مفادات کو اہمیت ملنے لگے تو سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو اٹھانا پڑتا ہے۔ آج وادیٔ کشمیر میں بھی مختلف حلقوں سے یہ آوازیں سننے کو ملتی ہیں کہ بعض سرکاری دفاتر میں عوام کو اپنے جائز کاموں کے لیے غیر ضروری تاخیر پیچیدگیوں اور بعض اوقات رشوت کے مطالبات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ ہر سرکاری ملازم کو اس کا ذمہ دار قرار دینا ناانصافی ہوگی کیونکہ آج بھی بے شمار ایماندار افسران اور ملازمین پوری دیانت داری سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں لیکن چند افراد کی بدعنوانی پورے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیتی ہے۔رشوت صرف پیسے کا لین دین نہیں بلکہ ایک ایسا سماجی ناسور ہے جو انصاف مساوات اور اعتماد کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ جب کسی شخص کو اپنے حق کے حصول کے لیے غیر قانونی رقم ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑے تو اس کا اعتماد اداروں سے اٹھنے لگتا ہے۔ وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر نہیں بلکہ اس کی رفتار پیسے اور سفارش کے مطابق بدل جاتی ہے۔
عام آدمی کی مشکلات کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ کسی سرکاری دفتر میں ایک معمولی کام کے لیے بار بار چکر لگاتا ہے۔ کبھی ایک دستاویز کی کمی کا بہانہ بنایا جاتا ہے کبھی کسی دستخط کا انتظار کرایا جاتا ہے اور کبھی فائل کو دنوں بلکہ ہفتوں تک ایک میز سے دوسری میز تک منتقل کیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں بعض لوگ مجبور ہو کر رشوت دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں تاکہ ان کا جائز کام جلد مکمل ہو سکے۔ یہ مجبوری دراصل ایک ایسے نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے جس میں شفافیت اور جوابدہی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔سب سے زیادہ متاثر غریب اور متوسط طبقہ ہوتا ہے۔ ایک یتیم بیوہ مزدور کسان یا بے روزگار نوجوان کے لیے چند ہزار روپے بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ جب اسے اپنے جائز حق کے لیے اضافی رقم خرچ کرنی پڑے تو اس کی پریشانی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ بعض اوقات لوگ قرض لے کر یا اپنی ضروریات قربان کر کے یہ رقم ادا کرتے ہیں جو معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کرتی ہے۔
رشوت خوری صرف مالی نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ یہ نوجوانوں کے مستقبل پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔ جب کسی معاشرے میں میرٹ کی جگہ سفارش اور پیسے کو فوقیت دی جائے تو قابل اور محنتی نوجوان مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انہیں محسوس ہونے لگتا ہے کہ ان کی تعلیم قابلیت اور محنت کی کوئی قدر نہیں۔ یہ احساس نہ صرف انفرادی نقصان ہے بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
اگرچہ گزشتہ برسوں میں مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے شفافیت بڑھانے اور بدعنوانی پر قابو پانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں، لیکن عوام کی توقع ہے کہ ان اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ آن لائن خدمات وقت کی پابندی عوامی شکایات کے فوری ازالے اور ذمہ دار افسران کی جوابدہی جیسے اقدامات رشوت کے امکانات کو کافی حد تک کم کر سکتے ہیں۔
اس مسئلے کا ایک اہم پہلو ہمارا اجتماعی رویہ بھی ہے۔ بعض اوقات لوگ اپنا کام جلد کرانے کے لیے خود رشوت دینے کی پیشکش کرتے ہیں۔ یہ عمل بھی اتنا ہی نقصان دہ ہے جتنا رشوت لینا۔ اگر شہری قانون کے مطابق اپنے حقوق کا مطالبہ کریں اور غیر قانونی راستہ اختیار نہ کریں تو نظام میں بہتری لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اسلام نے بھی رشوت کو سختی سے ناپسند کیا ہے۔ حلال رزق دیانت داری اور انصاف اسلامی تعلیمات کی بنیاد ہیں۔ رشوت لینے والا ہو یا دینے والا دونوں معاشرے میں برائی کے فروغ کا سبب بنتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ مذہبی تعلیمی اور سماجی سطح پر دیانت داری کی اہمیت کو مسلسل اجاگر کیا جائے تاکہ نئی نسل ایک بہتر سوچ کے ساتھ پروان چڑھے۔
والدین اساتذہ علماء سماجی کارکن اور ذرائع ابلاغ سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس برائی کے خلاف مثبت کردار ادا کریں۔ بچوں کو شروع سے یہ سکھایا جائے کہ محنت سے حاصل ہونے والی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے۔ اگر اخلاقی اقدار مضبوط ہوں گی تو مستقبل میں بدعنوانی کے امکانات خود بخود کم ہوتے جائیں گے۔
سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ایماندار افسران اور ملازمین بھی ہمارے معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کی خدمات کو سراہنا بھی ضروری ہے تاکہ دوسروں کو بھی دیانت داری کی ترغیب ملے۔ صرف تنقید سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اچھے کردار کو سامنے لانا بھی اصلاحِ معاشرہ کا اہم حصہ ہے۔
وادیٔ کشمیر کے عوام ایک ایسے نظام کے خواہاں ہیں جہاں ہر شہری کو بلاامتیاز انصاف ملے جائز کام وقت پر ہو اور کسی کو اپنے حق کے لیے غیر قانونی راستہ اختیار نہ کرنا پڑے۔ ایک مضبوط شفاف اور جوابدہ نظام نہ صرف عوام کے اعتماد کو بحال کرتا ہے بلکہ ترقی کی رفتار کو بھی تیز کرتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ رشوت خوری جیسے مسائل کا خاتمہ ایک دن میں ممکن نہیں لیکن اگر حکومت متعلقہ ادارے سرکاری ملازمین اور عام شہری اپنی اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کریں تو مثبت تبدیلی ضرور آ سکتی ہے۔ انصاف شفافیت اور قانون کی بالادستی ہی وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک مضبوط اور خوشحال معاشرہ تعمیر ہوتا ہے۔
رشوت خوری کے خلاف جدوجہد صرف حکومت یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم واقعی ایک منصفانہ شفاف اور باوقار جموں و کشمیر کا خواب دیکھتے ہیں تو ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریاں بھی نبھانی ہوں گی۔ دیانت داری کو اپنی پہچان بنایا جائے بدعنوانی کے خلاف بلاخوف آواز بلند کی جائے اور ایسا نظام قائم کیا جائے جہاں ہر شہری کو اس کا حق عزت اور میرٹ کی بنیاد پر ملے نہ کہ رشوت یا سفارش کے ذریعے۔ یہی ایک مضبوط خوشحال اور بااعتماد معاشرے کی اصل بنیاد ہے۔
��