مومن فیاض احمد غلام مصطفی
معاشرے کی تعمیر و ترقی میں نوجوانوں کا کردار ہمیشہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے نوجوانوں کو صحیح سمت دی، انہیں علم، شعور اور اخلاقی تربیت سے آراستہ کیا، وہ قومیں دنیا میں عزت و وقار کے ساتھ زندہ رہیں۔ جبکہ وہ قومیں جنہوں نے اپنی نئی نسل کو نظر انداز کیا، انہیں بے مقصد آزادی دی یا ان کی صلاحیتوں کو صحیح رہنمائی فراہم نہ کی، وہ زوال کا شکار ہو گئیں۔آج سوشل میڈیا پر ایک تصویر میں درج پیغام نہایت فکر انگیز اور حقیقت پر مبنی تھا۔’’اگر مسلم قوم سے فقیر لوگوں کو ختم کرنا ہے تو نوجوانوں کو اور برقع پوش خواتین کو بھیک دینا چھوڑ دو۔ مسلم قوم میں بھکاری نہیں بلکہ محبت کرنے اور حوصلہ افزائی پیدا کرو۔‘‘یہ پیغام دراصل ہماری موجودہ سماجی صورتِ حال کی عکاسی کرتا ہے اور ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ایک پوری سوچ ہے، ایک انقلاب کی بنیاد ہے۔
ہر قوم کا اصل سرمایہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ نوجوانی وہ قیمتی مرحلہ ہے جس میں انسان کے اندر بے پناہ توانائی، جذبہ، خواب اور کچھ کر گزرنے کا جنون ہوتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب انسان اپنی تقدیر خود لکھ سکتا ہے۔ اگر یہی توانائی مثبت سمت میں لگ جائے تو قومیں عروج پاتی ہیں اور اگر یہی توانائی ضائع ہو جائے تو قومیں پستی میں چلی جاتی ہیں۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ نوجوان اپنی اصل طاقت کو پہچاننے کے بجائے وقتی لذتوں اور مصنوعی خوشیوں میں کھو گیا ہے۔ اس کی راتیں موبائل کی اسکرین پر اور دن بے مقصد مصروفیات میں گزر رہے ہیں۔دنیا کی ہر کامیاب قوم نے وقت کی قدر کی ہے۔ وقت وہ دولت ہے جو ایک بار گزر جائے تو واپس نہیں آتی۔ نوجوان اگر اپنے وقت کو ضائع کرتا ہے تو دراصل وہ اپنی زندگی کو ضائع کرتا ہے۔
حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں،’’اے ابن آدم! تو دنوں کا مجموعہ ہے، جب ایک دن گزر جاتا ہے تو تیرا ایک حصہ کم ہو جاتا ہے۔‘‘یہ قول ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ہم اپنے قیمتی وقت کو کہاں خرچ کر رہے ہیں۔ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ بھیک دینے سے غربت ختم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہے۔ اگر ہم واقعی اپنی قوم کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ’’ہاتھ پھیلانے‘‘کے کلچر کو ختم کر کے ’’ہنر سکھانے‘‘کا نظام قائم کرنا ہوگا۔ہر نوجوان کو چاہیے کہ وہ کم از کم ایک ہنر ضرور سیکھے۔ چاہے وہ کمپیوٹر، گرافک ڈیزائننگ، موبائل ریپئرنگ، الیکٹریشن یا کوئی اور فنی مہارت ہو۔ ہنر انسان کو خوددار بناتا ہے اور معاشرے میں عزت دلاتا ہے۔
سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے، لیکن اس کا غلط استعمال نوجوانوں کو تباہ کر رہا ہے۔ وقت کا ضیاع، بے مقصد ویڈیوز، اور غیر اخلاقی مواد ذہنی صلاحیتوں کو ختم کر رہا ہے۔
اگر یہی سوشل میڈیا علم حاصل کرنے، ہنر سیکھنے اور مثبت پیغام پھیلانے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہی ایک انقلاب لا سکتا ہے۔ڈگریاں انسان کو نوکری تو دے سکتی ہیں، لیکن عزت اور کامیابی صرف اچھے کردار سے ملتی ہے۔ سچائی، دیانت داری، محنت، اور اخلاص وہ صفات ہیں جو انسان کو بلند مقام تک پہنچاتی ہیں۔آج ہمیں ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو صرف کامیاب نہیں بلکہ باکردار بھی ہوں۔آج بہت سے نوجوان حالات سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ بے روزگاری، ناکامی اور مسائل انہیں توڑ دیتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں، ہر رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔ناکامی دراصل کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے، شرط یہ ہے کہ انسان ہمت نہ ہارے۔اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں چند عملی قدم اٹھانے ہوں گے۔ہر نوجوان روزانہ کم از کم 2 گھنٹے سیکھنے میں لگائے۔ایک نیا ہنر سیکھنے کا عزم کرے۔سوشل میڈیا کا محدود اور مثبت استعمال کرے۔اپنے اردگرد کم از کم ایک شخص کی رہنمائی کرے۔چھوٹے کاروبار اور خود روزگار کی طرف قدم بڑھائے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف شکایتیں نہ کریں بلکہ خود کو بدلیں۔ یاد رکھیں، قومیں تقریروں سے نہیں بلکہ کردار اور عمل سے بنتی ہیں۔اگر آج کا نوجوان جاگ گیا تو کل کی تاریخ بدل جائے گی۔ اگر وہ سویا رہا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔آؤ عہد کریں کہ ہم وقت کی قدر کریں گے،ہم محنت کو اپنی پہچان بنائیں گے،ہم خوددار بنیں گے،ہم اپنی قوم کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری نوجوان نسل کو صحیح راستہ دکھائے۔ آمین۔
رابطہ۔9890476581