ریحانہ شجر
حضرت زینب بنت علی سلام اللہ علیہا تاریخِ اسلام کی ایک عظیم اور بہادر ترین خاتون ہیں، جنہوں نے سانحہ کربلا کے بعد اپنی بے مثال فصاحت و بلاغت اور خطبات کے ذریعے امام حسین علیہ السلام کے مشن کو زندہ رکھا۔
کیے زینبؔ نے فصاحت سے یہ جس وقت کلام
کانپے سینوں میں جگر رونے لگے لوگ تمام
اہلِ بیت کی وہ مقدس ہستی جن کے سحر انگیز خطبے نے یزیدی ایوانوں کے غرور کو ملیا میٹ کر دیا وہ کوئی اور نہیں، بلکہ حضرت زینب بنت علیؓ تھیں۔آپ کی ولادت ۵ جمادی الاولیٰ سنہ ۵ ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی (الخصائص الزینبیہ)۔ نوزائیدہ بچی کو بارگاہِ رسالت میں لایا گیا تو آپؐ نے پیش گوئی فرمائی کہ یہ بچی اپنی نانی حضرت خدیجہ ؓ کی شبیہ ہے۔ اللہ کے حکم سے نام ’’زینب ‘‘رکھا گیا، جس کے معنی ’’باپ کی زینت‘‘ ہیں (زینب الکبریٰ)۔حضرت زینبؓ علم کے اس بلند مرتبے پر فائز تھیں کہ تاریخ میں آپ کو ’’عالمۃ غیر معلّمۃ‘‘ کا لقب ملا۔ امام زین العابدین ؓ نے فرمایا کہ آپ وہ عالمہ ہیں جنہیں اللہ نے براہِ راست فہم عطا کیا ۔ قرآن و تفسیر پر گہری دسترس رکھتی تھیں، مدینہ میں خواتین آپ کی علمی مجالس سے فیض یاب ہوتی تھیں اور عبداللہ بن عباسؓ جیسے مفسر بھی آپ کا حوالہ دیتے تھے۔اس جلیل القدر خاتون کی زندگی استقامت، علم اور شجاعت کا بے مثال باب ہے۔ آپ امیر المؤمنین علی ؓ اور سیدہ فاطمۃ الزہراؓ کی آغوشِ تربیت میں پرورش پانے والی، امام حسین ؑ کی رازدار بہن، اور سرورِ کائناتؐ کی نواسی تھیں۔ آپ کی ذات میں زہد و تقویٰ کا جمال اور باطل کے سامنے حق گوئی کا جلال دونوں موجود تھے۔
کربلا کے المناک معرکے میں جب آپ نے اپنی آنکھوں کے سامنے بھائیوں، بیٹوں اور بھتیجوں کے کٹے ہوئے سر اور لٹے ہوئے خیمے دیکھے، تو جذبات پر قابو رکھتے ہوئے صرف یہ جملہ ارشاد فرمایا:’’میں نے اللہ کی رضا میں جو دیکھا، خوبصورت دیکھا۔‘‘ (الکامل فی التاریخ)۔غم کی اس شدت میں بھی آپ نے اللہ کی بندگی نہیں چھوڑی۔ امام زین العابدینؓ گواہ ہیں کہ کربلا سے شام کے قید خانے تک، میری پھوپھی کی تہجد ایک رات بھی قضا نہیں ہوئی (ریاحین الشریعہ)۔
دربارِ یزید میں شجاعانہ خطبہ : کربلا کے بعد حضرت زینب ؓ نے اسیر ہونے کے باوجود ایسی فکری جنگ لڑی جس نے بنو امیہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ جب اہلِ بیت کے ستم رسیدہ قافلے کو یزید کے دربار میں پیش کیا گیا، تو شیرِ خدا کی بیٹی نے جلالِ حیدری کے ساتھ فصیح خطبہ دیا (البدایہ والنہایہ)۔آپ نے للکارتے ہوئے فرمایا:’’اے یزید! تو جتنا چاہے مکر کر لے، خدا کی قسم! تو نہ ہماری یاد کو دلوں سے مٹا سکتا ہے اور نہ ہی وحی کے مرتبے کو نابود کر سکتا ہے۔ تیری رائے کمزور ہے، تیری مدت محدود ہے، اور تیری جمع پونجی بکھر جائے گی۔‘‘ (بلاغات النساء)آپ کا روضہ مبارک شام کے دارالحکومت دمشق کے جنوب میں واقع ایک قصبے (سیدہ زینب) میں قائم ہے، جو صدیوں سے دنیا بھر کے مسلمانوں اور زائرین کی عقیدت کا ایک بہت بڑا مرکز ہے۔سونے کے خوبصورت گنبد اور نیلے رنگ کی روایتی کاشی کاری (ٹائلز) سے مزین یہ شاندار مزار نہ صرف تعمیراتی شاہکار ہے، بلکہ آپؓ کی لازوال قربانیوں، صبر اور شجاعت کی ایک زندہ جاوید علامت ہے۔حضرت زینب بنت علی سلام اللہ علیہا کی حیاتِ مبارکہ اور ان کا بے مثل کردار کائنات کی تمام خواتین کے لیے عزم، شجاعت، صبر اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا سب سے روشن مینارِ نور اور مشعلِ راہ ہے۔جو خواتین کو سکھاتی ہے کہ حالات کتنے کٹھن ہوں حق کی سربلندی اور باطل کی نفی کے لیے سینہ سپر رہنا چاہیے۔
[email protected]
�����������������