عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے ہفتہ کے روز آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں ضلع مجسٹریٹ آفس سرینگر کے سابق ناظر کے رہائشی مکان، اراضی اور سونے کے زیورات سمیت متعدد منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کر لیں۔جاری ایک بیان میں اے سی بی کے ترجمان نے بتایا کہ ضبط کی گئی جائیدادیں فردوس آباد بٹہ مالو کے رہائشی امتیاز احمد بھٹ کی ملکیت ہیں، جو ڈی سی آفس سرینگر میں بطور ناظر تعینات تھے۔ یہ کارروائی پولیس اسٹیشن اے سی بی سرینگر میں درج ایف آئی آر نمبر 09/2025 کے سلسلے میں عمل میں لائی گئی۔
بیان کے مطابق ضبط شدہ اثاثوں میں فردوس آباد بٹہ مالو میں چھ مرلہ اور 172 مربع فٹ اراضی پر قائم ایک منزلہ ٹین کی چھت والا رہائشی مکان، نوگام میں ملزم کی بیٹی کے نام 10 مرلہ اراضی، جبکہ نمبل نوگام میں ملزم کی اہلیہ کے نام بالترتیب چار مرلہ 136 مربع فٹ اور آٹھ مرلہ 136 مربع فٹ کے دو پلاٹ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً ایک ہزار 266 گرام وزنی سونے کے زیورات بھی ضبط کیے گئے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ یہ مقدمہ 22 مئی 2025 کو خفیہ جانچ کے بعد درج کیا گیا تھا، جس میں الزام تھا کہ ملزم نے اپنی معلوم آمدنی سے کہیں زیادہ اثاثے جمع کیے ہیں۔تحقیقات کے دوران اے سی بی نے ملزم کی رہائش گاہ پر تلاشی لی، جہاں سے تانبے کے برتن، سونے کے زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء برآمد کی گئیں۔ بعد ازاں ملزم کو گرفتار کیا گیا، تاہم وہ عدالتی احکامات کے تحت اس وقت ضمانت پر ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ سرکاری ملازم نے مبینہ طور پر اپنی معلوم آمدنی سے کہیں زیادہ منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے جمع کیے۔ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد ڈی ایس پی رینک کے افسران کی سربراہی میں دو ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جنہوں نے بٹہ مالو اور نوگام میں تمام قانونی تقاضے مکمل کرتے ہوئے مذکورہ جائیدادوں کو ضبط کیا۔اے سی بی کے مطابق ضبط شدہ جائیدادوں پر نوٹس بورڈ نصب کر دیے گئے ہیں اور عوام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان جائیدادوں کی خرید و فروخت یا کسی بھی قسم کے لین دین سے گریز کریں۔
آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس: اے سی بی نے سابق ناظر کا مکان، اراضی اور سونا ضبط کر لیا