غلام نبی رینہ
کنگن// ٹرک یارڈسونہ مرگ میں گہرے گڑھے اورناہموار ہونے سے مال بردارگاڑیوں کونقصان سے دوچارہوناپڑرہاہے۔ بارش کے دوران ٹرک یارڈ تالاب میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ سونہ مرگ میں سونہ مرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے تعمیر کئے گئے ٹرک یارڈ میں داخل ہونے کیلئے اگرچہ چھ ٹائر والی مال بردار گاڑیوں سے ایک سو روپیہ اور ٹرالر سے دو سو روپے بطور سینی ٹیشن فیس لیا جاتا ہے، لیکن ٹرک یارڈ میں داخل ہونے کے بعد جہاں ڈرائیوروں کیلئے پینے کے پانی ،بیت الخلاء، سٹریٹ لائٹیں دستیاب نہیں رکھی گئی ہیں، وہیں ٹرک یارڈ میں گہرے گڑھوں کی وجہ سے مال بردار گاڈیوں کے مالکان کو نقصان سے دو چار ہونا پڑرہا ہے۔
بشیر احمد نامی ایک ٹرک ڈرائیور نے بتایا کہ سرینگر لیہہ شاہراہ پر سفر کررہی مال بردار گاڑیوں کو محکمہ ٹرانسپورٹ کی طرف سے سونہ مرگ میں ایک وے برج (کنڈا) نصب کیا گیا ہے ،جہاں لداخ جانے والی مال بردار گاڑیوں کا وزن کیا جاتاہے، لیکن سونہ مرگ میں داخل ہونے کیلئے شتکڑی کے مقام پر ایک ٹول پوسٹ قائم کیا گیا ہے، جس کو سونہ مرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے آوٹ سورس کیا ہے اور وہاں چھ ٹائر والی مال بردار گاڑیوں سے ایک سو روپیہ اور ٹرالہ سے دو سو روپیہ بطور صفائی فیس لیا جاتا ہے۔ بشیر احمد کے مطابق جب گاڑیاں ٹرک یارڈ میں داخل ہوجاتی ہیں، تو وہاں گہرے گڑھوں کی وجہ سے گاڑیوں کے پرزے ڈھیلے ہوجاتے ہیں جبکہ بارش کے دوران ٹرک یارڈ تالاب کی شکل اختیار کرتا ہے۔ ایک اور ٹرک ڈرائیور معروف احمد نے بتایا کہ اگرچہ ٹرک یارڈ میں دو دنوں تک تقریبا 600گاڑیاں موجود ہوتی ہیں اور وہ یہاں پر سہولیات فراہم ہونے کیلئے فیس ادا کرتے ہیں لیکن یہاں پر پینے کے پانی ،بیت الخلاء اورسٹریٹ لائٹیوں کی عدم دستیابی کے باعث پریشان ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرک یارڈ کی حالت بھی انتہائی خستہ ہے جس کی وجہ سے شاہراہ پر سفر کررہے ڈرائیوروں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ٹرک یارڈ سے اتھارٹی کو ماہانہ لاکھوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے لیکن یہاں ڈرائیوروںسے فیس وصول کئے جانے کے باوجود بھی سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔ ڈرائیوروں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ ٹرک یارڈ کی مرمت کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں پر سہولیات دستیاب رکھنے ،صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے کیلئے اقدامات کئے جائیں تاکہ انہیں مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔