خالد گل
کوکرناگ//جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے کوکرناگ میں واقع ایشیا کے سب سے بڑے ٹراؤٹ فارموں میں سے ایک ٹراؤٹ فارم کم ہیچری نے گزشتہ سیزن کے دوران 60 لاکھ سے زائد ٹراؤٹ انڈے، 20 لاکھ فش سیڈ اور تقریباً 100 میٹرک ٹن رینبو ٹراؤٹ پیدا کی، جس سے 2.7 کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدنی حاصل ہوئی۔20 ہیکٹر رقبے پر پھیلا یہ فارم 1984 میںیورپی اکنامک کمیونٹی کی مالی معاونت اور اسکاٹ لینڈ کے ماہرین کی تکنیکی رہنمائی سے قائم کیا گیا تھا۔آج یہ کشمیر میں ٹراؤٹ سیڈ پیدا کرنے کا سب سے بڑا مرکز ہے، جو سرکاری فارموں اور سینکڑوں نجی فارموں کو مچھلی کا بیج فراہم کرتا ہے۔فارم کے چیف پروجیکٹ آفیسرسجاداحمدڈار نے کہا،’’اس ہیچری سے پیدا ہونے والا سیڈ کشمیر کے بیشتر نجی اور سرکاری فش فارموں کو فراہم کیا جاتا ہے۔‘‘انہوں نے بتایا کہ اگرچہ اچھ بل، پانزتھ-قاضی گنڈ، پاندچھ سرینگر، ناربل بڈگام، چتلَم پلوامہ، ترگام بانڈی پورہ اور گاندربل سمیت کئی مقامات پر نئی ہیچریاں قائم کی جا چکی ہیں، تاہم کوکرناگ اب بھی وادی میں ٹراؤٹ سیڈ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔کشمیر میں پہلی مرتبہ 1899 میں برطانیہ سے 10 ہزار ٹراؤٹ انڈے (اووا) لائے گئے تھے، تاہم وہ مکمل طور پر ضائع ہوگئے۔ ایک سال بعد اسکاٹ لینڈ سے لائی گئی دوسری کھیپ کامیاب رہی، جس کے بعد کشمیر میں ٹراؤٹ کلچر کی بنیاد پڑی۔1901 میں برطانوی افسرفرینک مچل نے ہروان-داچھی گام میں پہلی ٹراؤٹ ہیچری قائم کی، جس نے بعد میں اس صنعت کی ترقی کی راہ ہموار کی۔سجاد احمد ڈار کے مطابق فارم میں رینبو ٹراؤٹ کی افزائش کے لیے مخصوص بروڈ اسٹاک موجود ہے، جس سے اکتوبر سے فروری کے درمیان انڈے حاصل کیے جاتے ہیں۔فارم کے سپروائزرعاقب احمد نے بتایا کہ نر رینبو ٹراؤٹ عموماً دو سے تین سال میں جبکہ مادہ تین سے چار سال میں افزائش کے قابل ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا،’’کچھ بروڈ مچھلیوں کا وزن چار سے پانچ کلوگرام تک ہوتا ہے اور اس حجم تک پہنچنے میں تقریباً پانچ سال لگتے ہیں۔‘‘افزائش نسل کے عمل میں مادہ مچھلیوں سے انڈے اور نر مچھلیوں سے سفید مادہ (ملٹ) حاصل کرکے مصنوعی طریقے سے بارآوری کی جاتی ہے۔عاقب احمد کے مطابق،’’بارآور انڈوں کو ٹھنڈے چشمے کے پانی سے چلنے والی ہیچری ٹرے میں رکھا جاتا ہے، جہاں تقریباً ایک ماہ بعد بچے نکلتے ہیں۔‘‘سجاد احمد ڈار نے بتایا کہ گزشتہ سیزن میں فارم نے تقریباً 60 لاکھ بارآور انڈے (گرین اووا) پیدا کیے۔انہوں نے کہا،’’موسم سرما کے پانی اور ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے ان میں سے تقریباً 15 لاکھ بچے (فرائی) زندہ رہتے ہیں۔‘‘بعد ازاں ان بچوں کو نرسری ٹینکوں اور ریس ویز میں منتقل کیا جاتا ہے، جہاں وہ فش سیڈ اور فنگرلنگز میں تبدیل ہو کر سرکاری و نجی فارموں کو فراہم کیے جاتے ہیں۔پروجیکٹ آفیسر بشیراحمدنے کہا کہ کامیاب پیداوار کے لیے مسلسل نگرانی اور مہارت ضروری ہے۔حکام کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں ٹراؤٹ کی پیداوار تقریباً دوگنی ہو چکی ہے، جس کی وجہ حکومتی اسکیمیں اور جدید آبی زراعتی ٹیکنالوجیز جیسے ری سرکولیٹنگ ایکوا کلچر سسٹم ،بائیو فلوک یونٹس اور بہتر ہیچری طریقہ کار ہیں۔گزشتہ سیزن کے دوران تقریباً 4.40 لاکھ ٹراؤٹ انڈے تمل ناڈو، اتراکھنڈ اور لداخ کے خریداروں کو فروخت کیے گئے، جس سے تقریباً 12 لاکھ روپے آمدنی ہوئی۔اسی طرح فش سیڈ کی فروخت سے 50 لاکھ روپے حاصل ہوئے جبکہ مارکیٹ سائز رینبو ٹراؤٹ کی فروخت فارم کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ رہی۔مجموعی طورفارم کی سالانہ آمدنی 2.7 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں ٹراؤٹ کی پیداوار 2015-16 میں 298 ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 2650 ٹن تک پہنچ گئی ہے، جس کے ساتھ یہ خطہ بھارت کا سب سے بڑا ٹراؤٹ پیدا کرنے والا علاقہ بن چکا ہے۔اسی عرصے میں نجی ٹراؤٹ فارمنگ یونٹس کی تعداد 388 سے بڑھ کر 1649 ہو گئی جبکہ کشمیر میں 800 سے زائد نجی فارم کام کر رہے ہیں، جن میں سے 68 صرف کوکرناگ کے علاقے میں ہیں۔تلوانی-اچھہ بل کے ٹراؤٹ فارمر اعجازاحمدخان نے کہا،’’ہم کوکرناگ سے سیڈ اور فیڈ حاصل کرتے ہیں۔ یہاں کے سیڈ کا معیار اچھا ہے اور بقا کی شرح بھی بہتر رہتی ہے۔‘‘انہوں نے بتایا کہ وہ تین ریس ویز چلاتے ہیں اور سالانہ تقریباً 12 لاکھ روپے کماتے ہیں۔محکمہ ماہی پروری کشمیر کے معاون ڈائریکٹرشبیراحمد نے بتایا کہ محکمہ ایک صدی سے زائد عرصے بعد کشمیر کے آبی ذخائر میں براؤن ٹراؤٹ کی بحالی پر بھی کام کر رہا ہے۔گزشتہ سال ڈنمارک سے درآمد کیے گئے تقریباً تین لاکھ براؤن ٹراؤٹ اووا کامیابی سے تیار کرکے کشمیر کی 40 سے زائد ندیوں اور 12 جھیلوں میں چھوڑے گئے۔انہوں نے کہا،’’اس پروگرام کا مقصد ان آبی ذخائر میں براؤن ٹراؤٹ کی بحالی اور آبی حیاتیاتی تنوع کو مضبوط بنانا ہے۔‘‘ماہرین کے مطابق اس اقدام سے کشمیر میں اینگلنگ (شوقیہ ماہی گیری) سیاحت کو بھی فروغ ملے گا، کیونکہ براؤن ٹراؤٹ طویل عرصے سے کشمیر کی پہچان رہی ہے۔محکمہ ماہی پروری کے مطابق کوکرناگ ہیچری مستقبل میں بھی کشمیر کی بڑھتی ہوئی آبی زراعتی صنعت کے لیے مرکزی مرکز کی حیثیت برقرار رکھے گی۔