خالد گل
سرینگر//جنوبی کشمیر کے ایک تحقیقی فارم سے شروع ہونے والا لیونڈر کا سفر آج جموں و کشمیر کے ہزاروں کھیتوں تک پھیل چکا ہے، جو نہ صرف زرعی منظرنامے بلکہ دیہی معیشت اور کسانوں کی زندگیوں کو بھی تبدیل کر رہا ہے۔پلوامہ کے بونیر ریسرچ سٹیشن کی قیادت میں، اور سرہامہ (اننت ناگ) اورنونر (گاندربل) کے سرکاری فارموں کی معاونت سے، لیونڈر کی کاشت اب جموں و کشمیر کے تقریباً 4 ہزار کسانوں کو ایک ایسی ویلیو چین سے جوڑ چکی ہے جس میں کاشت، پروسیسنگ اور عالمی خوشبوؤں کی صنعت تک رسائی شامل ہے۔کشمیر میں اس وقت لیونڈر کے کھیت اپنے عروج پر ہیں اور پلوامہ، اننت ناگ اور گاندربل کے تحقیقی و سرکاری فارم اس خوشبودار فصل کی توسیع میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جسے کسان آمدنی، ویلیو ایڈیشن اور زرعی سیاحت کے نئے ذریعہ کے طور پر اپنا رہے ہیں۔اس توسیع کی بنیادسی ایس آئی آر-انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انٹیگریٹو میڈیسن کے بونیر فیلڈسٹیشن نے رکھی، جسے بھارت میں تجارتی پیمانے پر لیونڈر کی کاشت کا مرکز اور جموں و کشمیر میں اس فصل کا مادر ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔یہ سٹیشن 1970 کی دہائی کے اوائل میں ادویاتی اور خوشبودار پودوں پر تحقیق کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا۔ تقریباً 1500 کنال پر محیط اس مرکز میں 800 کنال اراضی لیونڈر کے لیے مختص ہے، جبکہ باقی رقبے پر روزمیری، گلاب، میری گولڈ، سینٹڈ جیرانیم، کلیری سیج، آرٹیمیشیا، زعفران، ٹیولپ اور کرسنتھیمم جیسی فصلیں اگائی جاتی ہیں۔
یہ مرکز شہد کی مکھیوں کے چھتے بھی چلاتا ہے اور لیونڈر و چیری شہد جیسی مصنوعات تیار کرتا ہے۔علاوہ ازیں یہاں زرعی پروسیسنگ، فصلوں کے بعد کے انتظام، ادویاتی اور ضروری تیل والی فصلوں کی پیداوار، معیاری پودوں کی تیاری، کسانوں کی تربیت اور بلند پہاڑی علاقوں کے نایاب پودوں کے تحفظ پر بھی تحقیق کی جاتی ہے۔سی ایس آئی آر۔آئی آئی آئی ایم کے ڈائریکٹرزبیراحمد نے کہا کہ بونیرسٹیشن ادویاتی اور خوشبودار فصلوں کا ایک مرکزی نمائشی مرکز ہے، جہاں کسانوں کو معیاری پودے، لیبارٹری ٹیسٹنگ، کشید کاری (ڈسٹلیشن)، پروسیسنگ اور مارکیٹ تک رسائی جیسی مکمل سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ادارے کی کوشش رہی ہے کہ کسانوں کو کاشت سے لے کر مارکیٹنگ تک پوری ویلیو چین میسر ہو۔ان کے مطابق لیونڈر کی کاشت کے گرد ایک مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دیا گیا ہے جس میں کسانوں کو پروسیسرز، خریداروں اور خوشبو سازی کی صنعت سے جوڑا گیا ہے۔گزشتہ ماہ سی ایس آئی آر کے زیر اہتمام منعقدہ خریدار و فروخت کنندہ اجلاس میں کسانوں نے 30 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا لیونڈر آئل فروخت کیا۔لیونڈر کی کاشت میں اضافہ بڑی حد تک سی ایس آئی آر،ارومامشن کا نتیجہ ہے۔ اس پروگرام کے تحت ملک بھر میں 5 ہزار سے زائد کسان لیونڈر کی کاشت سے وابستہ ہو چکے ہیں، جن میں سے تقریباً 4 ہزار جموں و کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔زبیر احمد کے مطابق بھدرواہ، کشتواڑ، ادھم پور، راجوری، پونچھ اور رام بن اضلاع لیونڈر کی کاشت کے بڑے مراکز بن چکے ہیں، جہاں آب و ہوا اور بارانی زراعت اس فصل کے لیے موزوں ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی جتندرسنگھ کی سرپرستی نے سائنسی تحقیق کو دیہی روزگار سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔بونیرسٹیشن کے انچارج سائنسدان شاہدرسول کے مطابق پلوامہ میں تیار کردہ لیونڈر کے پودے نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور اتر پردیش تک فراہم کیے گئے۔انہوں نے کہا،’’بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ بھارت میں اس تجارتی فصل کی بنیاد پلوامہ کے ایک تحقیقی مرکز نے رکھی۔‘‘
اس سیزن میں سٹیشن سے 700 کوئنٹل سے زائد لیونڈر پیداوار متوقع ہے۔ پھولوں کو 12 فیلڈ ڈسٹلیشن یونٹس اور ایک مرکزی پلانٹ میں پروسیس کیا جاتا ہے۔ان کے مطابق ایک کوئنٹل لیونڈر سے تقریباً ایک کلوگرام ضروری تیل حاصل ہوتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ دیگر قیمتی عرق اور ہائیڈروسول بھی حاصل ہوتے ہیں۔لیونڈر آئل اعلیٰ معیار کے پرفیوم، کاسمیٹکس، صفائی کے سامان، کیڑے بھگانے والی مصنوعات، شیمپو، کریم، اروما تھراپی اور فلاحی صنعتوں میں استعمال ہوتا ہے۔اس کے عرق ادویاتی اور غذائی سپلیمنٹ مصنوعات میں استعمال کے لیے زیرِ تحقیق ہیں، جبکہ لیونڈر واٹر جلد کی دیکھ بھال اور صحت افزا مصنوعات میں استعمال کیا جاتا ہے۔لیونڈر میں جراثیم کش، اینٹھن دور کرنے اور بے خوابی کے علاج کی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ اس سے جیلی، بسکٹ، آئس کریم اور لیونڈر چائے بھی تیار کی جاتی ہے۔شاہد رسول کے مطابق لیونڈر بارانی اور پہاڑی علاقوں میں کسانوں کی پسندیدہ فصل بن چکی ہے کیونکہ جنگلی جانور اور مویشی اس کی تیز خوشبو کی وجہ سے اسے نقصان نہیں پہنچاتے۔انہوں نے کہا کہ روایتی فصلوں کو جنگلی جانور اکثر تباہ کر دیتے تھے، جبکہ لیونڈر اس مسئلے سے بڑی حد تک محفوظ ہے۔بڈگام کے کسان غلام محی الدین نے 2015 میں چند کنال زمین پر لیونڈر کاشت کرنا شروع کیا تھا اور آج وہ 50 کنال سے زائد رقبے پر اس فصل کی کاشت کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی لاگت 8 سے 10 ہزار روپے فی کنال تھی، لیکن فصل نے بہتر منافع دیا۔ ان کے مطابق کاسمیٹکس، ویلنَس اور آیورویدک صنعتوں میں بڑھتی ہوئی طلب نوجوانوں کو بھی اس شعبے کی طرف راغب کر رہی ہے۔دریں اثناپلوامہ کے کسان اعجازاحمد نے ہائی ڈینسٹی سیب کے باغات میں لیونڈر کی بین الفصلی کاشت اختیار کی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیب کے درختوں کے درمیان خالی جگہ کو استعمال کر کے اضافی آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔’’لیونڈر ایک نقد آور فصل ہے، مکئی کے مقابلے میں اس کی دیکھ بھال آسان ہے اور یہ بہتر منافع دیتی ہے۔‘‘بونیرا کے محققین ہائی ڈینسٹی سیب کے باغات میں لیونڈر کی بین الفصلی کاشت کے معاشی فوائد اور مقامی حالات سے مطابقت کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔اس طرح بونیرا ریسرچ اسٹیشن، سرہامہ اور نونر فارموں کی مشترکہ کوششوں نے کشمیر میں ایک ’پرپل ریولوشن‘ کو جنم دیا ہے، جو نہ صرف زرعی تنوع کو فروغ دے رہی ہے بلکہ ہزاروں کسانوں کے لیے روزگار اور آمدنی کے نئے دروازے بھی کھول رہی ہے۔