عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/ کشمیری پنڈت برادری کے اہم مذہبی تہوار کھیر بھوانی میلہ میں شرکت کے لیے ہفتہ کے روز 9 ہزار سے زائد یاتری جموں سے وادیٔ کشمیر روانہ ہوئے۔ اس سال یاتریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جس کے پیش نظر انتظامیہ کو میلے میں بڑی تعداد میں عقیدت مندوں کی شرکت کی توقع ہے۔
حکام کے مطابق یاتریوں کو جموں و کشمیر روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (جے کے آر ٹی سی) کی تقریباً 200 بسوں کے ذریعے سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان وادی کی جانب روانہ کیا گیا۔
یاتریوں کے قافلے کو بی جے پی کی ناگروٹا سے رکن اسمبلی دیویانی رانا، ریلیف کمشنر (مہاجرین) اروند کَروانی اورجموں-کٹھوعہ-سانبہ رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس شری دھر پاٹل نے مشترکہ طور پر روانہ کیا۔
کھیر بھوانی میلہ 22 جون کو وادی کشمیر کے پانچ اہم رگنیہ بھگوتی مندروں میں منعقد ہوگا، جن میں گاندربل کے تولہ مولہ، کولگام کے منزگام اور دیوسر، اننت ناگ کے لوگری پورہ اور کپواڑہ کے ٹکّر کے مزارات شامل ہیں۔
ان تمام مقامات میں تولہ مولہ کا تاریخی کھیر بھوانی مندر سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے، جہاں دنیا بھر سے کشمیری پنڈت اور دیگر عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔ یہ مندر قدیم چنار کے درختوں کے سائے میں واقع ہے اور ہر سال ہزاروں زائرین کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔
یاتری 22 جون کو درشن کے بعد 23 جون کو واپس جموں لوٹیں گے۔
اس موقع پر رکن اسمبلی دیویانی رانا نے کہا کہ انہیں مسلسل دوسرے سال یاتریوں کے قافلے کو روانہ کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال یاترا میں غیر معمولی جوش و خروش عقیدت مندوں کے مضبوط ایمان اور کھیر بھوانی مندر سے ان کی گہری روحانی وابستگی کا مظہر ہے۔
انہوں نے دعا کی کہ دیوی رگنیہ تمام یاتریوں کو صحت، خوشحالی اور کامیابی عطا کرے اور ان کی دعائیں جموں و کشمیر میں امن، بھائی چارے اور ہم آہنگی کا سبب بنیں۔
ڈی آئی جی شری دھر پاٹل اور ریلیف کمشنر اروند کَروانی نے بتایا کہ یاترا کو پُرامن اور سہل بنانے کے لیے سیکورٹی، ٹرانسپورٹ، رہائش اور طبی سہولیات کے جامع انتظامات کیے گئے ہیں۔
کئی یاتریوں نے اس موقع پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کھیر بھوانی یاترا محض ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ ان کے آبائی وطن اور ثقافتی ورثے سے ایک جذباتی اور روحانی رشتہ بھی ہے۔
ایک یاتری رویندر سادھو نے کہا، ’’ہم جموں و کشمیر میں امن، خوشحالی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے دعا کرتے ہیں۔‘‘
خاتون یاتری نیلم کماری نے کہا کہ وہ مندر میں حاضری دے کر ملک اور جموں و کشمیر کی ترقی و خوشحالی کے لیے دعا کریں گی، ساتھ ہی بے گھر کشمیری پنڈت برادری کی وادی میں باعزت واپسی کے لیے بھی دعائیں مانگیں گی۔
ایک اور یاتری سمرن نے کہا کہ اس سال یاتریوں کی بڑی تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ وقت گزرنے کے باوجود کشمیری پنڈت برادری کا کھیر بھوانی مندر اور اپنی ثقافتی روایات سے رشتہ آج بھی مضبوط ہے۔
کشمیر کے مشہور کھیر بھوانی میلے میں شرکت کے لیے 9 ہزار سے زائد یاتری جموں سے روانہ