عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/ روٹس اِن کشمیر اور یوتھ فار پنن کشمیر نے سری نگر میں ایک غیر رجسٹرڈ تنظیم کی جانب سے منعقدہ حالیہ کانکلیو کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنظیم خود کو کشمیری پنڈتوں کی نمائندہ قرار دیتی ہے، حالانکہ اسے ایسا کوئی اختیار حاصل نہیں۔
دونوں تنظیموں کی جانب سے جاری مشترکہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کانکلیو کے بعض مقررین، خصوصاً چند غیر ملکی شہریوں کے بیانات، کشمیری پنڈتوں کی نسل کشی اور جبری نقل مکانی کی حقیقت کو مسخ کرنے اور اسے معمولی ثابت کرنے کی ایک بڑی کوشش کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کشمیری پنڈت برادری آج بھی 1991 کی ’’مارگ درشن قرارداد‘‘ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے، جو اس تحریک کی بنیادی دستاویز ہے اور کشمیری پنڈتوں کی باوقار، محفوظ اور پائیدار واپسی کے لیے واحد قابلِ عمل فریم ورک تصور کی جاتی ہے۔
یوتھ فار پنن کشمیر کے صدر ویتھل چودھری نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ خود کو کشمیری پنڈتوں کا نمائندہ کہنے والے بعض افراد سیاسی شخصیات کے ساتھ میل جول میں مصروف ہیں، جبکہ ہزاروں بے گھر کشمیری ہندو آج بھی انصاف اور بحالی کے منتظر ہیں۔
انہوں نے کشمیر میں معمول کے حالات سے متعلق دعوؤں اور کشمیری پنڈت برادری کے مسلسل قتل و بے دخلی کے درمیان موجود تضاد پر بھی سوال اٹھایا۔
معروف سماجی کارکن امت رینہ نے کہا کہ بھارت کے داخلی معاملات میں غیر ملکی شہریوں کی سیاسی مداخلت اور تبصرے ناقابلِ قبول ہیں۔ ان کے مطابق ایسے بیانات اور اقدامات کشمیر میں مقیم کشمیری پنڈتوں کی جان و مال کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
روٹس اِن کشمیر کی نمائندگی کرتے ہوئے راہول مہانوری نے کہا کہ برادری کے بنیادی مطالبات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، جن میں نسل کشی کے متاثرین کو انصاف، بے گھر کشمیری ہندوؤں کے لیے ایک جگہ پر آبادکاری (ون پلیس سیٹلمنٹ) اور مجوزہ وطن کے لیے یونین ٹیریٹری کا درجہ شامل ہے۔
دونوں تنظیموں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ برادری کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور ان افراد کی روحوں کے ایصالِ ثواب کے لیے ہون (ہونم) کا اہتمام کریں گی جن کی قربانیوں اور یادوں کو، ان کے مطابق، کشمیر میں چند افراد کے اقدامات سے مجروح کیا گیا ہے۔
چند غیر ملکی افراد کشمیری پنڈتوں کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتے: روٹس اِن کشمیر و یوتھ پنن کشمیر