عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کشمیری پنڈت اپنی جڑوں سے دوبارہ جڑیں اور ایک نئے اور بدلتے ہوئے جموں و کشمیر کے مستقبل کی تعمیر میں فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ بے دخلی سے لے کر عالمی سطح پر کامیابی تک کا کشمیری پنڈت برادری کا سفر ہمت، استقامت اور عزم کی ایک روشن مثال ہے۔
سرینگر کے ایس کے آئی سی سی میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ یہ اجتماع ایک تاریخی لمحے کی عکاسی کرتا ہے اور کشمیری پنڈت برادری کی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ اپنی سرزمین سے ان کے مضبوط تعلق کا بھی مظہر ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں اپنے سامنے اس سرزمین کے بیٹوں اور بیٹیوں کو دیکھ رہا ہوں۔ ہم سرینگر میں ایک تاریخی لمحے کے گواہ ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کشمیر نے اس برادری کی بے دخلی کا درد بھی دیکھا ہے اور آج اس کی بحالی، اعتماد اور کامیابیوں کا مشاہدہ بھی کر رہا ہے۔
1990 کی دہائی میں کشمیری پنڈتوں کی ہجرت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس برادری نے بے پناہ مشکلات اور تکالیف کا سامنا کیا، خاندان راتوں رات اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے، لیکن انہوں نے مایوسی کے آگے سر جھکانے کے بجائے آگے بڑھنے کا راستہ اختیار کیا۔
انہوں نے کہا، ’’آپ کے سامنے دو راستے تھے، ایک ناامیدی اور شکست کا، جبکہ دوسرا تعمیر نو، محنت اور سماجی خدمت کا۔ آپ نے دوسرا راستہ منتخب کیا اور اپنی جدوجہد کو طاقت اور اپنے درد کو مقصد میں بدل دیا۔‘‘
منوج سنہا نے کہا کہ کشمیری پنڈت برادری کی اصل کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے اپنی شناخت، ثقافت، روایات اور اپنے آبائی دیہاتوں کی یادوں کو زندہ رکھا اور انہیں اپنی طاقت کا ذریعہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کانکلیو امید، اعتماد اور تجدید کا پیغام دیتا ہے کیونکہ جو لوگ کبھی بے گھر ہوئے تھے، آج وہ اپنی سرزمین کے ساتھ دوبارہ جڑنے کے لیے پرعزم نظر آتے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں نے کبھی ہمدردی کی بھیک نہیں مانگی بلکہ تعلیم، انتظامیہ، ادب، فنون، سائنس اور عوامی خدمت سمیت مختلف شعبوں میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا، ’’مجھے خوشی ہے کہ کشمیری پنڈت ملک اور دنیا بھر میں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں جبکہ اپنی تہذیبی شناخت اور ورثے کو بھی محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔‘‘
منوج سنہا نے کہا کہ یہ اجتماع صرف ماضی کی یادوں کا احیاء نہیں بلکہ اقتصادی بااختیاری، سماجی شمولیت اور ثقافتی احیاء کے لیے ایک عملی خاکہ بھی فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ کشمیری پنڈت برادری دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو سکے گی، لیکن اس برادری نے اپنی استقامت اور قیادت کے ذریعے ان تمام خدشات کو غلط ثابت کر دیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں نے ایسے دانشور، ماہرین تعلیم، فنکار، منتظمین اور پالیسی ساز پیدا کیے جنہوں نے قومی سطح پر نمایاں خدمات انجام دیں اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ آج پوری قوم اور دنیا اس برادری کی کامیابیوں اور اس کے ناقابلِ تسخیر جذبے کو سلام پیش کر رہی ہے۔
منوج سنہا نے کہا کہ ایک نیا جموں و کشمیر ابھر کر سامنے آیا ہے اور کشمیری پنڈت برادری اس کے مستقبل کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا، ’’آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہتے ہوں، آپ کی کامیابی اپنی جڑوں اور کشمیر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یہ کانکلیو ان نسلوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے جنہوں نے بے دخلی کا درد جھیلا اور ان نوجوان نسلوں کے درمیان جو اپنی شناخت اور ورثے کو آگے بڑھا رہی ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ معاشرے کو بے دخلی جیسے المیے کے خلاف متحد ہونا چاہیے اور انصاف، وقار اور دیرپا مفاہمت کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر منوج سنہا نے کشمیری پنڈت برادری کی ہمت اور ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا، ’’میں آپ کے عزم اور حوصلے کو سلام پیش کرتا ہوں۔ آپ کا سفر دراصل گھر واپسی کا سفر ہے اور میرا یقین ہے کہ یہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔‘‘
انہوں نے کشمیری پنڈتوں پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر میں تعلیمی، سماجی اور ترقیاتی ادارے قائم کریں، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو فروغ دیں اور خطے کی ترقی میں بھرپور حصہ لیں۔
منوج سنہا نے کہا کہ ایک بامقصد زندگی کا اصل معیار ذاتی کامیابی نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے معاشرے اور وطن کو آنے والی نسلوں کے لیے کتنا بہتر بنا کر چھوڑتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی تہذیبی نشاۃ ثانیہ اور ایک ترقی یافتہ قوم بننے کے سفر کو کشمیری پنڈت برادری سمیت ہر طبقے کی شمولیت اور قیادت مزید مضبوط بنائے گی۔
جموں و کشمیر کے مستقبل کی تشکیل میں کشمیری پنڈتوں کا کردار اہم : منوج سنہا