یو این آئی
نئی دہلی//حکومت نے صارفین کے لیے قیمتوں کا موازنہ آسان بنانے، بازار میں شفافیت بڑھانے اور پیکیجنگ میں یکسانیت کو یقینی بنانے کے مقصد سے خوردنی تیلوں اور فیٹس کی پیکیجنگ اور خالص مقدار کے تعین سے متعلق اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) میں ترمیم کی ہے۔صارفین کے امور کے محکمہ نے ہفتہ کو یہ معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ ایڈبل آئل انڈسٹری (خوردنی تیل کی صنعت)کی اہم تنظیموں سے وسیع مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ بازار میں الگ الگ سائز کے پیکٹوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے صارفین کو مختلف برانڈز کی قیمتوں اور مقدار کا موازنہ کرنے میں دشواری ہوتی ہے، اسلئے نئے نظام سے کھانے کے تیلوں کی پیکیجنگ میں یکسانیت آئے گی اور خریداری زیادہ شفاف بنے گی۔
ترمیمی ایس او پی کے تحت پام، سویا بین، سورج مکھی، سرسوں، مونگ پھلی، تل، رائس بران، کپاس کے بیج اور مکئی کے تیل سمیت اہم کھانے کے تیلوں اور مخلوط خوردنی تیلوں کیلئے 200ملی لیٹر/گرام، 500 ملی لیٹر/گرام، 1، 2، 3، 4، 5، 15 اور 20 لیٹر/کلوگرام کے معیاری پیک سائز مقرر کیے گئے ہیں۔ نئے ضوابط کے مطابق اگر کسی کھانے کے تیل کی مقدار لیٹر یا ملی لیٹر میں دکھائی جاتی ہے تو پیکٹ پر اس کا مساوی وزن بھی واضح طور پر درج کرنا ہوگا۔ اس سے صارفین کو مختلف برانڈز کی مصنوعات کی اصل قیمت اور مقدار کا بہتر اندازہ لگانے میں مدد ملے گی۔حکومت نے تاہم یہ بھی واضح کیا ہے کہ 200 ملی لیٹر یا 200 گرام سے کم مقدار والے پیکٹ اس معیار کے دائرے سے باہر رہیں گے تاکہ کم قیمت والے چھوٹے پیک دستیاب رہ سکیں۔ یہ نظام ملک میں تیار کردہ اور درآمد شدہ دونوں طرح کے کھانے کے تیلوں پر لاگو ہوگا۔ مینوفیکچررز، پیکرز اور درآمد کنندگان کو نئے قوانین کو نافذ کرنے کے لیے تین ماہ کا عبوری وقت دیا گیا ہے۔محکمہ کے مطابق اس پہل سے صارفین کو پیسے کی صحیح قیمت سمجھنے، مختلف برانڈز کی قیمتوں کا موازنہ کرنے اور زیادہ باخبر خریداری کے فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔ ساتھ ہی خوردنی تیل کی صنعت میں پیکیجنگ کی یکسانیت اور منصفانہ مسابقت کو فروغ ملے گا۔