عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//ملک کی سب سے بڑی آٹوموبائل کمپنیماروتی سوزوکی انڈیا لمیٹیڈنے بائیو گیس کے دو اہم منصوبوں میں مجموعی طور پر 150 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پائیدار مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا، فوسل فیول پر انحصار کم کرنا اور ملک میں صاف توانائی کے استعمال کو وسعت دینا ہے۔کمپنی کے مطابق ہریانہ میں واقع اپنے مینوفیکچرنگ پلانٹ میں 10 ٹن یومیہ صلاحیت کا ایک نیا بائیو گیس پلانٹ قائم کیا جائے گا، جس کے رواں مالی سال کے دوران کام شروع کرنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی نے Manesar Plant میں موجود بائیو گیس پلانٹ کی صلاحیت 0.2 ٹن یومیہ سے بڑھا کر 0.7 ٹن یومیہ کر دی ہے۔ماروتی سوزوکی نے کہا کہ یہ اقدامات حکومت کے “ویسٹ ٹو ویلتھ” مشن سے ہم آہنگ ہیں اور ان کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ کاربن کے اخراج میں کمی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کمپنی کے اندازے کے مطابق خرخودہ میں قائم ہونے والا نیا بائیو گیس پلانٹ مکمل صلاحیت سے کام کرتے ہوئے سالانہ تقریبا 9,490 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی لائے گا۔ یہ پلانٹ مینوفیکچرنگ یونٹ کی مجموعی گیس ضروریات کا تقریبا 20 فیصد پورا کرے گا۔اس موقع پر کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او ہساہی تاکوچی نے کہا کہ کمپنی فوسل فیول کے استعمال اور درآمدی تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت توانائی کے غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں بائیو گیس جیسے منصوبے پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت میں فوسل فیول پر انحصار کم کرنے کے قومی ہدف کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ منصوبے وقت کی اہم ضرورت ہیں اور کمپنی اس قومی کوشش میں اپنا بامعنی کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔