مشتاق الاسلام
پلوامہ //ضلع ہسپتال پلوامہ میں مبینہ توڑ پھوڑ، طبی عملے کو ہراساں کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعے پر ضلع بھر میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہسپتال میں یہ دوسرا ایسا واقعہ ہے جس نے ڈاکٹروں اور طبی عملے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔طبی اور نیم طبی عملے نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بار بار پیش آنے والے ایسے واقعات ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ہسپتال عملے کے مطابق چند افراد مبینہ طور پر ہسپتال میں داخل ہوئے، عملے کے ساتھ بدسلوکی کی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ضلع اسپتال پلوامہ ڈاکٹر عبدالغنی ڈار نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں اور نرسنگ عملے کی خدمات قابلِ احترام ہیں اور انہیں دھمکانا یا سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔سول سوسائٹی کے ارکان نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے عوامی صحت کے نظام کیلیے خطرہ قرار دیا اور طبی عملے کی سلامتی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ادھر نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ایک بی جے پی لیڈر اس معاملے میں ملوث ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے فوری کارروائی اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا۔مختلف حلقوں نے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ہسپتال کی سیکورٹی مزید مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔