عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//وادی کشمیر میں موسمِ بہار کے دوران برف پگھلنے اور ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافے کے باعث آبی حادثات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ دو ماہ کے دوران کم از کم 11 افراد ڈوب کر جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد افراد زخمی اور کئی اب بھی لاپتہ ہیں۔ حالیہ افسوسناک واقعے میں سری نگر کے جواہرنگر سے تعلق رکھنے والے محمد اشرف میر اپنے بیٹے کو بچاتے ہوئے پہلگام کے قریب لیدر ندی میں بہہ گئے۔ مقامی افراد نے ان کے بیٹے کو زندہ بچا لیا تاہم محمد اشرف میر تیز پانی کے ریلے میں لاپتہ ہو گئے۔چوتھے روز بھی ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، پولیس اور مقامی رضاکاروں پر مشتمل ریسکیو ٹیمیں ان کی تلاش میں مصروف ہیں۔وادی بھر میں دریا، ندی نالے اور آبی گزرگاہیں برف پگھلنے کے باعث معمول سے کہیں زیادہ تیز بہاؤ کا شکار ہیں، جس سے معمولی لاپرواہی بھی جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔ حکام اور ریسکیو اداروں کے مطابق کئی حادثات نہاتے وقت، سیاحتی مقامات پر تصاویر لیتے ہوئے یا پانی کے قریب جانے کے دوران پیش آئے۔اعداد و شمار کے مطابق صرف گزشتہ دو ماہ میں پیش آنے والے مختلف واقعات میں بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں سمیت متعدد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان میں بانڈی پورہ، بارہمولہ، گاندربل، شوپیان، پلوامہ اور اننت ناگ جیسے اضلاع شامل ہیں جہاں الگ الگ حادثات رپورٹ ہوئے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق رواں برس غیر معمولی طور پر گرم اور خشک موسم کے باعث برف کے پگھلنے کا عمل جلد شروع ہوا، جس سے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ رجحان مستقبل میں مزید خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے اگر موسم کی تبدیلیوں اور بارشوں کا پیٹرن اسی طرح جاری رہا۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ تیز بہاؤ والے ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور خاص طور پر بچوں کو ان مقامات سے دور رکھا جائے۔ری