اشرف چراغ
کپوارہ//شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع کے سرحدی علاقے جو ماضی میں ملی ٹنسی کے شکار ہوئے تھے میں اب سرحدی سیاحت نے رفتار پکڑ لی۔ضلع کے دور افتادہ سرحدی وادیو ں میں سیاحت اور مقامی آبادی کی شمولیت ایک نئی تبدیلی کی بنیاد رکھ رہی ہے جس سے نہ صرف معیشت کو فرو غ مل رہا ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی اور علاقائی استحکام بھی مضبوط ہو رہا ہے۔ضلع کے مژھل ،کیرن اور ٹیٹوال ایسے سرحدی علاقے ہیں جو آج بھی ماضی کی ویرانی کے منہ بولتا ثبوت پیش کر رہے کہ کیونکہ یہ علاقے ملی ٹنسی کے دوران زبردست متاثر ہوئے یہا ں آئے روز گن گرج اور توپو ں کی آوازوں سے لوگ زبردست پریشان تھے لیکن 2019کے بعد یہا ں حالت اس قدر بدل گئے کہ گزشتہ3سالو ں کے دوران ان سر حدی علاقوں میں امن تشدد پر بھاری رہا اور سر کار نے ان علاقوں کو سرحدی سیاحت کے نقشے پر لانے کا من بنالیا اور ان تین سالو ں میں ہزارو ں سیلانیو ں نے س علاقوں کی سیر کی۔سرحدی علاقوں میں سیاحت کو فرو غ دینے سے ان خطو ں کی وہ خوبصورتی اور ثقافتی ورثہ ملکی سطح کیا بلکہ عالمی سطح پر سامنے آرہا ہے جو برسوں تک نظر انداز رہا۔ان علاقوں میں رہنے والے لوگ ان سیاحت کے ذریعے اپنی روایات ،طرز زندگی اور مہمان نوازی کو دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیںاور اس سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ سرحدی سیاحت کا تصور صرف قدرتی مناظر دیکھنے تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد سرحدی علاقوں میں بسنے والے لوگو ں کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم کرنا اور ان کی زندگی کو سمجھنا بھی ہے۔سرکاری اقدامات کے تحت ان علاقوں میں ہوم سٹے ،مقامی دستکاری ،روایتی کھانے اور ثقافتی پروگروامو ں کو فرو غ دیا جارہا ہے۔جس سے مقامی معشیت کو نئی جان مل رہی ہے اور روز گار کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔کیر ن جو درہائے کشن گنگا کے کنارے آباد ہے جہا ں دریا کے اس پار پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر ہے کو کئی سال قبل سیاحوں کے لئے کھول دیا گیا جہا ں لوگ نہ صرف قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ حد متارکہ کے قریب زندگی کا منفرد تجربہ بھی حاصل کر تے ہیں۔یہاں کے لوگو ں نے اپنے گھرو ں کو سجا کر ہوم اسٹے کے طور سیلانیو ں کے لئے وقف کئے تاکہ کیرن کی سیر کرنے والے سیلانیو ں کو کسی بھی قسم کے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور اس سے یہا ں کے لوگو ں کی آمدانی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔کیرن جو وادی کے باقی حصوں سے فرکیا ں گلی (درہ)سے الگ کر دیا جاتا ہے جو زیادہ تر سردیو ں میں برف باری سے بند ہوتی ہے۔کشن گنگا دریا جو تقسیم کی لیکر بناتی ہے جبکہ پاکستانی زیر قبضہ کشمیر میں دریا کے اس پار گائو ں کو بھی کیرن کہا جاتا ہے۔مڑھل جو ضلع صدر مقام سے 52کلو میٹر دور پہا ڑ وں کے بیچ آباد ہے۔اس علاقے کو آلو کی وادی بھی کہا جاتا ہے۔مژھل قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور یہا ں کی جڑی بو ٹیو ں کو لوگ بطور دوائی بھی استعمال کرتے ہیں۔یہ علاقہ سر سبز میدانو ں اور پہاڑوں کے ساتھ چھو ٹی خوبصورت وادی کے طور جانا جاتا ہے۔ہند و پاک کے درمیان سرحدو ں پر 2021میں جنگ بندی کے بعد یہ علاقے ایک پر امن علاقہ بن گیا اور گزشتہ تین دہائیو ں کے دوران امن اورترقی کی جانب اس طرح کا دوسرا اقدام ہے۔وادی مژھل میں موسم بہار فطرت کا ایک دلکش اور انوکھا روپ پیش کرتا ہے۔شدید برف باری کے بعد جب موسم بہار کی پہلی کرنیں یہا ں پڑتی ہیں تو یہ علاقہ سبز مخملی ثادر اوڑھ لیتا ہے اور رنگ برنگے پھولو ں کی مہک سے یہا ں کی فضا معطر ہوجاتی ہے۔کرنا ہ برف پوش پہا ڑو ں کو چیر کے جب کرناہ وادی پہنچ جاتے ہیں تو ایک سکون سا ملتا ہے۔کرناہ کی فضائو ں میں موسم بہار کی خاص جھلکیا ں دیکھ کر انسان خوش ہوتا ہے۔اس وادی کے چارو ں طرف کھڑے بلند و بالا کو ہسارو ں یقینی شمس بری پہاڑ جن پر سردیو ں میں برف کی مو ٹی تہہ جمی ہوتی ہے۔موسم بہار آتے ہی نیلے آسمان تلے بری بھری چراگاہو ں میں بدل جاتے ہیں۔درنگیاری سے لیکر ٹیٹوال تک سر سبز و شاداب میدانو ں ،ڈھلوانو ں اور ندی نالو ں کے کنارو ں پر کھلے ہزارو ں اقسام کے رنگ برنگے جنگلی پھول کرناہ کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دیتے ہیں۔موسم بہار اور گرما میں پہا ڑ وں سے پگھلنے والی برف نالو ں کی شکل اختیار کر کے اپنے ہی گن میں بہتی ہیں اور جا بجا چھوٹے چھوٹے چشمے اور آبشار اس خوبصورتی کو نکھارتے ہیں۔کرناہ لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ہے اور اپنی خالص خوبصورتی کی وجہ سے کشمیر کا آخری کنارہ بھی کہلاتا ہے۔کرناہ کا راستہ نستہ ڑھن گلی ( سادھنا درہ)کی دشوار گزار پہا ڑی راستے سے ہو کر گزرتا ہے اور کرناہ پہنچ کر سیلانیو ں کو یہا ں کی تاریخ کا مشاہدہ کرنے کا منفرد مواقع فراہم کرتا ہے۔مرکزی سرکار کی وائبرنٹ ولیج پروگرام کے تحت دوردراز علاقوں میں سیا حت کو فروغ دینے کے لئے بنیادی ڈھانچہ ،سیاحتی مراکز اور ہوم اسٹے تیار کئے جارہے ہیں جن سے مقامی آباد کو روز گار کے مواقع مل سکتے ہیں اور اس وجہ سے روایات اور طرز زندگی کو قریب سے جاننے کا موقع ملتا ہے۔کرناہ کا ٹیٹوال علاقہ گزشتہ دو سال کے دوران سیلانیو ں کی توجہ سے مرکز رہا کیونکہ یہا ں شاردا مندر کو زائرین کے لئے کھول دیا گیا جس کے بعد لائن آف کنٹرول کے قریب واقع چوکیا ں اور تاریکی مقامات سیا حوں میں جذبہ حب الوطنی اور ملکی سلامتی کا شعور بیدار کرتے ہیں۔ضلع کپوارہ کے ان سرحدی علاقو ں میں سرحدی سیاحت تیزی سے مقبول ہو رہی ہے اوران علاقوں کے لوگو ں کا مطالبہ ہے کہ ان علاقوں کو مکمل طور سیا حتی نقشے پر لانے کی سخت ضرورت ہے۔