عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ کی بدھ کو نیشنل کانفرنس کے اراکینِ اسمبلی کے ساتھ ہونے والی میٹنگ سے قبل قائدِ حزبِ اختلاف سنیل شرما نے اتوار کو کہا کہ عمر عبداللہ اپنے پروٹوکول کے برقرار رہنے تک ایگزیکٹو کونسلر کے عہدے سے بھی استعفیٰ نہیں دیں گے۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سنیل شرما نے کہا کہ عمر عبداللہ جموں و کشمیر کیلئے یونین ٹیریٹری سے بھی کم درجہ قبول کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا پروٹوکول برقرار رہے۔
انہوں نے کہا، ’’میری پیش گوئی یاد رکھیں، عبداللہ خاندان کی آئندہ نسلیں بھی استعفیٰ نہیں دیں گی۔ عبداللہ خاندان وزیر اعلیٰ کی کرسی سے چمٹا ہوا ہے۔ خدا نخواستہ اگر جموں و کشمیر کو لداخ کی طرز پر ہل کونسل کا درجہ دیا گیا اور عمر عبداللہ ایگزیکٹو کونسلر بنے، تب بھی وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔‘‘سنیل شرما نے مزید کہا کہ ’’اقتدار کے بھوکے‘‘ خاندان سے استعفیٰ کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’انہوں نے اپنی کرسی بچانے کیلئے 50 ہزار کشمیریوں کو مروا دیا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس یہ کہہ رہی ہے کہ اگر ان کے 12 گاڑیوں کے قافلے یا پروٹوکول میں کوئی کمی نہ آئے تو وہ جموں و کشمیر کیلئے یونین ٹیریٹری سے کم درجہ بھی قبول کرنے کیلئے تیار ہیں۔قائدِ حزبِ اختلاف نے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتیں ’’نام نہاد تحریک‘‘ چلا رہی ہیں تاکہ ’’دو خاندانوں کے نااہل شہزادے اور شہزادیاں‘‘ اقتدار میں رہ سکیں۔
انہوں نے کہا، ’’انہوں نے اپنی کرسی بچانے کیلئے جموں و کشمیر کو 36 برس تک خون میں نہلایا۔‘‘وزیر اعلیٰ کی مجوزہ میٹنگ کے بارے میں سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ عمر عبداللہ پارٹی کے اندرونی اختلافات کو عوام کے سامنے آنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔