آبنائے ہرمز نے بحرِ ہند میں چین کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا:نئی رپورٹ
ایجنسیز
سنگاپور// لندن میں قائم انٹرنیشنل انسٹی چیوٹ آف سٹریٹجک سٹیڈیز کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق چین کی بحری کمزوری کا آغاز آبنائے ملاکا سے نہیں بلکہ آبنائے ہرمز سے ہوتا ہے، جس کے باعث بحرِ ہند میں چین، بھارت، فرانس اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹجک مقابلے کا ایک نیا میدان سامنے آ رہا ہے۔سنگاپور میں جمعہ کو شروع ہونے والے تین روزہ شنگریلا ڈائیلاگ سکیورٹی سربراہی اجلاس سے قبل جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد نسبتاً پْرسکون رہنے والا بحرِ ہند کا خطہ دوبارہ ایک اہم اسٹریٹجک مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ایشیا پیسیفک ریجنل سکیورٹی اسیسمنٹ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بحرِ ہند سے گزرنے والی توانائی سپلائی پر چین کا انحصار اس خطے کو بیجنگ کی سلامتی حکمتِ عملی میں زیادہ اہم بنا رہا ہے، لیکن ساتھ ہی ایسی کمزوریاں بھی پیدا کر رہا ہے جنہیں حریف طاقتیں کسی تنازعے کی صورت میں استعمال کر سکتی ہیں۔رپورٹ میں مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کو ملانے والی اہم بحری گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور آبنائے ملاکا و سنگاپور کا جائزہ لیا گیا ہے، جہاں سے عالمی توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔رپورٹ کے مطابق حالیہ پیش رفت نے آبنائے ہرمز کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اس میں ایران کی جانب سے چین اور روس کے ساتھ ‘‘میری ٹائم سکیورٹی بیلٹ 2026’’ مشقوں میں شرکت کا حوالہ دیا گیا، جن میں رواں برس آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں بھی شامل تھیں۔یہ مشقیں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور تنازع شروع ہونے سے کچھ ہی پہلے منعقد ہوئیں، جس کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی۔رپورٹ میں چین کے مشہور ‘‘ملاکا ڈائلیما’’ کے تصور کو چیلنج کیا گیا ہے، جس میں آبنائے ملاکا سے گزرنے والی چینی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو کمزور نقطہ سمجھا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق اگرچہ آبنائے ملاکا اہم ہے، لیکن چین کی اصل کمزوری اس سے کہیں مغرب میں شروع ہوتی ہے کیونکہ اس کی درآمد شدہ توانائی کا بڑا حصہ پہلے آبنائے ہرمز سے گزر کر بحرِ ہند میں داخل ہوتا ہے اور پھر مشرقی ایشیا تک پہنچتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان بحری راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف چین بلکہ جاپان سمیت دیگر ایشیائی معیشتوں کو بھی متاثر کرے گی، جو بحرِ ہند کے ذریعے آنے والی توانائی پر انحصار کرتی ہیں۔مطالعے کے مطابق بحرِ ہند میں چین کو اپنے ساحلی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ اسٹریٹجک چیلنجز درپیش ہیں کیونکہ وہاں اسے بھارت، فرانس اور امریکہ جیسی طاقتوں کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑتا ہے، جو خطے میں مضبوط فوجی موجودگی اور شراکت داری رکھتے ہیں۔اگرچہ گزشتہ دو دہائیوں میں چینی بحریہ نے نمایاں توسیع کی ہے اور اپنے بحری راستوں کے تحفظ کی صلاحیتیں بڑھائی ہیں، لیکن آبنائے ہرمز کے قریب چین کی رسائی اب بھی محدود ہے۔ان کمزوریوں سے نمٹنے کے لیے چین نے بحرِ ہند کے ساحلی ممالک کے ساتھ فوجی مشقوں، سکیورٹی تعاون، اسلحہ برآمدات اور سیاسی و اقتصادی شراکت داریوں میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق مستقبل قریب میں چین کے لیے بھارت، فرانس یا امریکہ کو بحرِ ہند کی اہم بحری گزرگاہوں میں سرگرمیوں سے روکنا ممکن نظر نہیں آتا، تاہم وہ اپنے مفادات کے تحفظ اور حساس بحری راستوں پر انحصار کم کرنے کے لیے فوجی شراکت داریوں اور مستقل موجودگی کو وسعت دے رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا چین مستقبل میں بھارت، فرانس اور امریکہ جیسی مستقل فوجی موجودگی قائم کر پائے گا یا نہیں۔
فرانس بحرِ ہند کے مغربی حصے میں افریقہ اور جزیرہ ری یونین میں اپنی فوجی موجودگی کے ذریعے ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ بھارت بحرِ ہند کو اپنی بنیادی اسٹریٹجک ذمہ داری سمجھتا ہے اور خود کو خطے کے اہم سکیورٹی شراکت دار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئی دہلی نے حالیہ برسوں میں خطے بھر میں بحری مشقوں، دفاعی تعاون اور سکیورٹی شراکت داریوں کو وسعت دی ہے، جبکہ امریکہ نے ڈیگو گارشیا اڈے کے ذریعے اپنی دیرینہ فوجی موجودگی برقرار رکھی ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت، فرانس اور امریکہ کی فوجی موجودگی اور شراکت داریاں انہیں بحرِ ہند کی اہم بحری گزرگاہوں پر نگرانی، طاقت کے مظاہرے اور بحری سکیورٹی سرگرمیوں میں ہم آہنگی کی نمایاں صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان تینوں ممالک کے خطرات اور اسٹریٹجک ترجیحات ہمیشہ یکساں نہیں ہوتیں، جس سے گہرے تعاون کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔رپورٹ کے مطابق واشنگٹن، جو مغربی بحرالکاہل میں بیجنگ کے ساتھ اسٹریٹجک مقابلے میں مصروف ہے اور مغربی بحرِ ہند میں ایران کے ساتھ تنازع کا سامنا کر رہا ہے، چین کی بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیتوں کو خطے میں ایک نئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔مطالعے کے مطابق دفاعی منڈی کی توسیع، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، توانائی پر انحصار اور سیاسی تعلقات کی گہرائی چین کی بحرِ ہند میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو مزید تقویت دیں گے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیسے جیسے بحرِ ہند میں چین کے اقتصادی اور سکیورٹی مفادات بڑھیں گے، وہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی مزید گہری کرے گا، جبکہ طیارہ بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے مشرقی ایشیا تک اہم بحری راستوں کے تحفظ میں بڑھتا ہوا کردار ادا کریں گے۔