جرس ہمالہ
میر شوکت
بنگال کی صبح آج بھی نمی سے بھیگی ہوئی تھی۔ رات کی بارش کے بعد کچی گلیوں میں جگہ جگہ پانی جمع تھا اور ان میں آسمان کا دھندلا عکس ایسا لگتا تھا جیسے کسی غریب کے ٹوٹے ہوئے آئینے میں سورج اپنا چہرہ دیکھ رہا ہو۔ مچھلی بازار سے اٹھتی ہوئی بو، گیلی مٹی کی بھاپ، کوئلے پر چڑھی چائے کی کڑواہٹ اور جانوروں کے باڑوں سے اٹھتی ہوئی گرم سانسیں ۔ سب مل کر ایک ایسا منظر بنا رہی تھیں جس میں زندگی بھی تھی اور تھکن بھی۔ بنگال ہمیشہ سے ایسا ہی رہا ہے، خوبصورت بھی، بوسیدہ بھی۔ یہاں غربت بھی شاعری کے انداز میں چلتی ہے۔لیکن ان دنوں بنگال کی بعض مویشی منڈیوں پر ایک عجیب خاموشی اتری ہوئی ہے۔ وہ شور جو کبھی سودوں، بولیوں، رسیوں کے کھنچاؤ، دلالوں کی آوازوں اور جانوروں کی رنبھاہٹ سے پیدا ہوتا تھا، اب جیسے کسی نے اچانک ضبط کر لیا ہو۔ بازار کھلے ہیں، مگر ان میں بازار والی بے فکری باقی نہیں رہی۔ گائیں اب بھی کھڑی ہیں، ان کے گلے میں گھنٹیاں اب بھی بجتی ہیں، مگر ان آوازوں میں اب تجارت کی روانی نہیں بلکہ انتظار کی اداسی شامل ہو گئی ہے۔کچھ عرصہ پہلے تک یہی جانور معیشت کا حصہ تھے۔ دودھ، کھال، نسل، گوشت اور مزدوری ۔ ہر پہلو سے ان کی قیمت طے ہوتی تھی۔ خریدنے والا بھی مذہب سے پہلے نرخ پوچھتا تھا اور بیچنے والا بھی عقیدے سے زیادہ وزن پر بحث کرتا تھا۔ مگر پھر سیاست نے وہاں قدم رکھا جہاں پہلے صرف بھوسہ اور گوبر ہوا کرتا تھا اور سیاست جب بھی کسی جگہ داخل ہوتی ہے تو سب سے پہلے الفاظ کو بیمار کر دیتی ہے۔
اب گائے صرف جانور نہیں رہی۔ وہ نعرہ بن گئی ہے، جذبات بن گئی ہے، اشتہار بن گئی ہے، ووٹ بن گئی ہے۔ اس کے سینگوں پر مذہب باندھ دیا گیا ہے اور اس کی دم سے سیاست لٹکا دی گئی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو لوگ نسلوں سے اسی تجارت سے وابستہ تھے، وہ اچانک اپنے ہی پیشے کے کٹہرے میں کھڑے نظر آنے لگے۔
بنگال کی ان منڈیوں میں ان دنوں ایک عجیب تضاد دکھائی دیتا ہے۔ وہ تاجر جو برسوں تک انہی جانوروں کی خرید و فروخت سے اپنا گھر چلاتے رہے، اب ’’احترام‘‘ اور ’’تقدس‘‘ کی زبان بولتے دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری طرف ردِّعمل میں پیدا ہونے والی معاشی دوری نے اس تقدس کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔ بازار میں موجود خاموشی صرف کاروبار کی خاموشی نہیں، بلکہ اس منافقت کی خاموشی بھی ہے جو جنوبی ایشیا کے معاشروں میں اکثر مذہب کے نام پر پلتی رہتی ہے۔
یہ خطہ ہمیشہ سے عجیب رہا ہے۔ یہاں آدمی دن بھر سود میں ڈوبا رہتا ہے اور شام کو مذہب پر تقریر کرتا ہے۔ یہاں رشوت لینے والا ماتھے پر بڑا سا تلک یا پیشانی پر گہرا محراب رکھتا ہے۔ یہاں سیاست دان غریب کے گھر کا چولہا بجھا کر’’ثقافت‘‘ بچانے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور یہاں سب سے زیادہ مقدس چیز ہمیشہ وہی بنتی ہے جس سے سب سے زیادہ منافع حاصل ہو سکے۔
بنگال کی منڈیوں میں کھڑی گائیں شاید اس پورے ڈرامے کی سب سے معصوم مخلوق ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ کون انہیں’’ماتا‘‘ کہتا ہے اور کون ’’مال‘‘۔ انہیں صرف چارہ چاہیے، پانی چاہیے اور وہ ہاتھ چاہیے جو مارنے کے بجائے سہلا دے۔ مگر انسان نے جانور کو بھی اپنے جھگڑوں میں گھسیٹ لیا ہے۔ اس نے گائے کو کبھی عقیدت کی زنجیر میں باندھا، کبھی نفرت کی، کبھی تجارت کی۔بازار کے سنسان کونوں میں بیٹھے تاجر اب صرف خریدار کا انتظار نہیں کرتے بلکہ ایک ایسے زمانے کا انتظار کرتے دکھائی دیتے ہیں جب کاروبار کو کاروبار سمجھا جاتا تھا۔ مگر شاید وہ زمانہ اب گزر چکا ہے۔ اب ہر چیز کو نظریے میں بدل دینا اس خطے کی سب سے بڑی صنعت بن چکی ہے۔ یہاں چائے بھی نظریاتی ہے، لباس بھی، زبان بھی، کھانا بھی، حتیٰ کہ جانور بھی۔
اخبارات میں اس مسئلے کو کبھی مذہبی کشیدگی کا نام دیا جاتا ہے، کبھی معاشی بحران کا، کبھی ثقافتی تصادم کا۔ مگر سچ شاید ان سب سے زیادہ تلخ ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس پورے معاشرے نے ایمانداری کھو دی ہے۔ کوئی اپنے مفاد کو مفاد کہنے پر آمادہ نہیں۔ ہر شخص اپنے پیٹ کو عقیدے کے کپڑے پہنا دیتا ہے۔جو سیاست دان کل تک انہی تاجروں کے ساتھ تصویریں بنواتے تھے، آج وہی ٹی وی اسکرینوں پر کھڑے ہو کر جذباتی تقریریں کرتے ہیں۔ جنہوں نے کبھی مویشی منڈی کی بدبو تک برداشت نہیں کی، وہ اب گائے کی عظمت پر آنکھیں نم کر لیتے ہیں اور وہ عوام جو خود مہنگائی، بے روزگاری اور قرض کے نیچے دبے ہوئے ہیں، انہیں اس بحث میں الجھا دیا گیا ہے کہ کس کی تھالی زیادہ مقدس ہے۔
ادھر منڈیوں کی حالت یہ ہے کہ گائیں اب پہلے کی طرح تیزی سے فروخت نہیں ہوتیں۔ کئی تاجر نقصان میں ہیں۔ کچھ نے قرض لیا تھا، کچھ نے امید۔ دونوں ڈوبتے دکھائی دیتے ہیں۔ بارش کے بعد کیچڑ میں کھڑے جانور، ٹوٹی ہوئی چھتوں سے ٹپکتا پانی، ادھ جلے بلبوں کی زرد روشنی اور بھوسے پر سوئے ہوئے مزدور ۔ یہ سب مل کر ایسی تصویر بناتے ہیں جو کسی بھی ترقیاتی تقریر کا منہ چڑا سکتی ہے۔
شام کے وقت جب اندھیرا اترتا ہے تو بازار اور زیادہ اداس لگنے لگتا ہے۔ دور کہیں مندر کی گھنٹی بجتی ہے، دوسری طرف اذان کی آواز ابھرتی ہے، مگر ان مقدس آوازوں کے درمیان معیشت کی وہ کراہ دب جاتی ہے جو سب سے زیادہ حقیقی ہے۔ غریب آدمی آخرکار مذہب سے پہلے پیٹ کے ہاتھوں شکست کھاتا ہے، لیکن سیاست ہمیشہ کوشش کرتی ہے کہ اسے یہ شکست نظر نہ آئے۔
بنگال کی ان خاموش منڈیوں میں آج کل صرف گائیں نہیں کھڑی ہوتیں، وہاں انسان کی دوغلی فطرت بھی بندھی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ایک ایسا انسان جو منافع کے وقت ہر اصول بھول جاتا ہے اور نقصان کے وقت اچانک مقدس بن جاتا ہے۔ جو جانور کے نام پر فساد کر سکتا ہے مگر انسان کے نام پر انصاف نہیں۔رات گئے جب بازار بند ہو جاتے ہیں اور صرف چند گھنٹیوں کی مدھم آواز باقی رہ جاتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ پورا منظر کسی طنزیہ ناول کا آخری باب ہو۔ ایک ایسا ناول جس میں سب کردار خود کو نیک ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں، مگر آخر میں معلوم ہوتا ہے کہ سب سے بڑا دھوکا سچ کے ساتھ ہوا تھااور شاید یہی اس پورے المیے کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔یہاں اب گائے نہیں بکتی، یہاں ضمیر بکتا ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ ضمیر کی کوئی منڈی نظر نہیں آتی۔