عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتہ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انہیں مستقبل قریب میں وائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت دی۔یہ پیش رفت بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے ظاہر کی۔ انہوں نے لکھا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے وزیر اعظم مودی کو جلد وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دی ہے۔
ملاقات کے دوران روبیو نے وزیر اعظم کو دفاع، اسٹریٹجک ٹیکنالوجی، تجارت و سرمایہ کاری، توانائی تحفظ، رابطہ کاری، تعلیم اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔امریکی وزیر خارجہ نے مغربی ایشیا کی صورتحال سمیت متعدد علاقائی اور عالمی امور پر بھی امریکی نقطۂ نظر پیش کیا۔
وزیر اعظم مودی نے امن کی کوششوں کے لیے بھارت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے تنازعات کے حل کیلئے بات چیت اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے روبیو سے صدر ٹرمپ کو اپنی نیک تمنائیں پہنچانے کی درخواست بھی کی اور کہا کہ وہ ان کے ساتھ مستقبل میں مسلسل رابطوں کے خواہاں ہیں۔اس سے قبل مارکو روبیو چار روزہ سفارتی دورے پر کولکاتا پہنچے۔ یہ گزشتہ 14 برسوں میں کسی امریکی وزیر خارجہ کا کولکاتا کا پہلا دورہ ہے۔ اس سے قبل 2012 میں ہلیری کلنٹن نے شہر کا دورہ کیا تھا۔
پی ٹی آئی کے مطابق روبیو کے 23 سے 26 مئی تک جاری رہنے والے دورۂ بھارت میں کولکاتا، آگرہ، جے پور اور نئی دہلی شامل ہیں، جہاں تجارت، ٹیکنالوجی، دفاع، توانائی تعاون اور کواڈ شراکت داری جیسے موضوعات پر بات چیت متوقع ہے۔
بھارت روانگی سے قبل روبیو نے بھارت کو امریکہ کا ’’بہترین شراکت دار‘‘قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ بھارت کو اتنی توانائی فروخت کرنا چاہتا ہے جتنی وہ خرید سکتا ہے۔کواڈ وزرائے خارجہ اجلاس 26 مئی کو منعقد ہوگا، جس میں مارکو روبیو، آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ، جاپان کے وزیر خارجہ موٹیگی توشی متسو اور بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی شرکت متوقع ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کی وزیر اعظم مودی کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت