یواین آئی
تل ابیب// اسرائیل میں حکمران اتحاد نے بدھ کے روز کنیسٹ تحلیل کرنے اور قبل از وقت انتخابات کی طرف جانے کے لیے قانون کا مسودہ پیش کر دیا، جس سے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو درپیش سیاسی بحران مزید نمایاں ہو گیا ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ اقدام جنگ، سکیورٹی، اقتصادی پالیسیوں اور مذہبی معاملات پر حکومتی اتحاد کے اندر بڑھتے شدید اختلافات کے بعد سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کنیسٹ تحلیل کرنے کی تجویز کو حتمی منظوری سے قبل پارلیمانی مراحل سے گزرنا ہوگا، تاہم اس بل کا پیش کیا جانا ہی دائیں بازو کے حکومتی اتحاد میں بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔حکومت کو گذشتہ کئی ماہ سے جنگ کے انتظام، بڑھتی ہلاکتوں، اقتصادی مشکلات اور غزہ و لبنان میں فوجی کارروائیوں کے باعث شدید عوامی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔اسرائیلی ذرائع کے مطابق اتحاد کے اندر سب سے بڑا تنازع کٹر مذہبی یہودیوں ’’حریدیم‘‘ کے لیے لازمی فوجی سروس سے استثناء کے معاملے پر پیدا ہوا ہے۔
یہ مسئلہ حالیہ ہفتوں میں حکومتی اتحاد کے اندر تناؤ کی اہم ترین وجہ بن کر سامنے آیا، جبکہ مذہبی جماعتیں حکومت پر وعدے پورے نہ کرنے کا الزام لگا رہی ہیں۔لیکوڈ پارٹی نے بدھ کو اعلان کیا کہ اس کی حمایت یافتہ اکثریت نے کنیسٹ تحلیل کرنے کا بل پیش کر دیا ہے، جس سے قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔لیکوڈ کی جانب سے جاری مسودے کے مطابق پچیسویں کنیسٹ کو اس کی مدت مکمل ہونے سے پہلے تحلیل کر دیا جائے گا، جبکہ نئے انتخابات قانون کی منظوری کے کم از کم 90 روز بعد کرائے جائیں گے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس تجویز کو 20 مئی کو ووٹنگ کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے، جبکہ موجودہ پارلیمانی مدت 27 اکتوبر کو مکمل ہونی تھی۔سیاسی مبصرین کے مطابق نیتن یاہو کی جماعت نے یہ اقدام اس لیے کیا تاکہ وہ انتخابی شیڈول پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکے، کیونکہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حکومتی اکثریت بکھرنے کے خدشات شدت اختیار کر گئے تھے۔دوسری جانب بعض اپوزیشن جماعتوں نے بھی منگل کو کنیسٹ تحلیل کرنے کے لیے بل پیش کرنے کے ارادے کا اعلان کیا تھا، تاہم لیکوڈ کے اقدام نے بظاہر ان کی سیاسی حکمت عملی کو محدود کر دیا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ نئے انتخابات نیتن یاہو کی قیادت پر ایک غیر رسمی ریفرنڈم ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جنگ کے انتظام، امریکہ کے ساتھ تعلقات اور اندرونی سیاسی تقسیم کے تناظر میں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل کو خطے میں بڑھتی عسکری کشیدگی، ایران کے ساتھ تناؤ اور متعدد محاذوں پر تصادم کے باعث بین الاقوامی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔اگرچہ نیتن یاہو کو اب بھی قوم پرست اور مذہبی دائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔