ایجنسیز
اسلام آباد// پاکستان نے منگل کے روز امریکی میڈیا کی اس رپورٹ کو ’’گمراہ کن‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد نے ایرانی فوجی طیاروں کو اپنے ہوائی اڈے پر کھڑا ہونے کی اجازت دی تاکہ ممکنہ امریکی فضائی حملوں سے انہیں محفوظ رکھا جا سکے، جبکہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ثالث کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس وقت پاکستان میں موجود ایرانی طیارے امریکہ اور ایران کے درمیان ابتدائی امن مذاکرات کے بعد ہونے والی جنگ بندی کے دوران آئے تھے، اور ان کا کسی فوجی ہنگامی منصوبے یا حفاظتی انتظام سے ’کوئی تعلق نہیں‘ ہے۔سی بی ایس نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی صدر کی جانب سے اپریل کے اوائل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے چند دن بعد، تہران نے متعدد طیارے راولپنڈی کے نور خان ایئربیس بھیجے تھے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ فوجی سازوسامان میں ایرانی فضائیہ کا ایک RC-130 طیارہ بھی شامل تھا، جو لاک ہیڈ C-130 ہرکیولیس ٹیکٹیکل ٹرانسپورٹ طیارے کی جاسوسی اور انٹیلی جنس جمع کرنے والی قسم ہے۔دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کو’گمراہ کن اور سنسنی خیز‘ قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا۔