ایجنسیز
بیجنگ//چین کے اعلیٰ سفارتکار نے جمعرات کے روز کہا کہ متعدد ’اتار چڑھاؤ اور رکاوٹوں‘ کے باوجود امریکہ کے ساتھ تعلقات مستحکم رہے ہیں، اور دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ عالمی امن میں کردار ادا کرنے کے لیے مشترکہ راستہ تلاش کریں۔ یہ بیان ایک ہفتہ قبل سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کی توقع کی جا رہی ہے۔امریکی کانگریس کے دو جماعتی وفد، جس کی قیادت سینیٹر اسٹیو ڈینز کر رہے تھے، سے ملاقات کے دوران چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے کہا کہ صدور شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ نے ’’اہم مواقع پر دو طرفہ تعلقات کی سمت درست رکھنے میں مدد دی ہے۔‘‘
وانگ یی نے کہا، ’’گزشتہ ایک سال کے دوران چین اور امریکہ کے تعلقات نے کئی نشیب و فراز اور رکاوٹیں دیکھیں، لیکن اس کے باوجود ہم مجموعی استحکام برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔‘‘سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن اور ٹرمپ کے قریبی حامی اسٹیو ڈینز نے بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو استحکام کی جانب بڑھنا چاہیے۔انہوں نے کہا، ‘‘میرا پختہ یقین ہے کہ ہمیں کشیدگی کم کرنی چاہیے، تعلقات ختم نہیں کرنے چاہئیں۔ ہم استحکام اور باہمی احترام چاہتے ہیں۔’’ڈینز نے مزید کہا کہ اگلے ہفتے دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد ‘‘ممکن ہے کہ ہم مزید بوئنگ طیاروں کی خریداری دیکھیں، جو یقیناً ہم دیکھنا چاہیں گے۔’’سینیٹر نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے چین کی کوششوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بدھ کے روز وانگ یی کی ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات، خطے میں چین کی سرگرم سفارتی شمولیت کا ثبوت ہے۔14 اور 15 مئی کو متوقع ٹرمپ کے دور? چین سے قبل امریکی حکومت بیجنگ پر زور دے رہی ہے کہ وہ ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوائے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔گزشتہ سال ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ اسٹیو ڈینز کا چین کا دوسرا دورہ تھا۔ اس سے قبل وہ مارچ 2025 میں بھی چین گئے تھے، جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی محصولات اور غیر قانونی فینٹینائل تجارت کے خلاف اقدامات پر کشیدگی پائی جاتی تھی۔