لمحۂ فکریہ
منظور الٰہی
جنوبی کشمیر کے ترال سب ڈویژن میں دیہی ترقی کے نام پر قائم کیے گئے ڈمپنگ سینٹرز اب عوام کے لیے شدید مشکلات اور خطرات کا سبب بنتے جا رہے ہیں۔ دودھ مرگ کے آدر محلہ میں قائم ایک ڈمپنگ سینٹر اس تلخ حقیقت کی واضح عکاسی کرتا ہے، جہاں ترقی کے دعوے عوام کے لیے عذاب میں بدل چکے ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق اس ڈمپنگ سینٹر کی تعمیر کے وقت انہیں اندھیرے میں رکھا گیا۔ ابتدا میں بتایا گیا کہ یہاں پنچایت گھر یا پارک تعمیر کیا جا رہی ہے، مگر بعد میں اسے ڈمپنگ سینٹر میں تبدیل کر دیا گیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی، جو ایک کھلا دھوکہ ہے۔ایک مقامی نوجوان الطاف احمد نے کہا ہمارے گاؤں میں تعلیم کی کمی کا فائدہ اٹھا کر ہمیں دھوکہ دیا گیا اگر ہمیں حقیقت معلوم ہوتی تو ہم کبھی اس کی اجازت نہ دیتے۔ گاوں کے مکینوں کے مطابق اس ڈمپنگ سینٹر میں دور دراز علاقوں، حتیٰ کہ نیچے ٹاؤن سے کچرا لا کر پھینکا جا رہا ہے اور اب تو صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ یہاں مردہ جانور بھی ڈالے جا رہے ہیں جس سے تعفن اور آلودگی میں خطرناک اضافہ ہو گیا ہے روزمرہ زندگی پر اس کے اثرات انتہائی سنگین ہو چکے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق اسی راستے سے روزانہ اسکولی بچے بھی گزرتے ہیں، جو اس آلودہ ماحول اور تعفن کے بیچ سے گزرنے پر مجبور ہیں۔ مردہ جانوروں کی موجودگی کے باعث اب یہاں جنگلی جانوروں کی آمد کا بھی خطرہ بڑھ گیا ہے، جس سے بچوں اور مقامی لوگوں کی جان کو لاحق خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ ڈمپنگ سینٹر ایک مقامی شہری، محمد اسماعیل گوجر ولد عبدالغفور گوجر، کے گھر سے محض 10 میٹر کے فاصلے پر قائم کیا گیا ہے، جبکہ سرکاری ضوابط کے مطابق ایسے مراکز کو کم از کم بستی سے 500 میٹر دور ہونا چاہیے۔ اس کھلی خلاف ورزی نے نہ صرف انسانی صحت بلکہ بنیادی اصولوں کو بھی نظرانداز کر دیا ہے۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ بدبو، مچھر، بیماریوں کے خطرات اور ذہنی اذیت نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، مگر متعلقہ حکام کی خاموشی افسوسناک ہے۔اہلِ گاوں نے موجودہ حکومت ضلع ترقیاتی کمشنر پلوامہ، ڈاکٹر بشارت قیوم اور ایم ایل اے ترال رفیق احمد نائک سے پُرزور اپیل کی ہے کہ فوری مداخلت کر کے اس ڈمپنگ سینٹر کو بند کیا جائے یا آبادی سے دور منتقل کیا جائے، تاکہ عوام کو اس عذاب سے نجات مل سکے۔اگر اس سنگین مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو یہ ایک بڑے انسانی اور ماحولیاتی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
[email protected]