یواین آئی
تل ابیب// غزہ میں جنگ بندی کے باوجود حالات بدستور کشیدہ ہیں اور اسرائیل کی جانب سے جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکیوں نے خدشات بڑھا دیے ہیں۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک 828 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ مختلف علاقوں میں بمباری اور کارروائیاں جاری ہیں۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نےعندیہ دیا ہے کہ نئی جنگ تقریباً ناگزیر ہوچکی ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنی کنٹرول کی حدود بڑھا کر تقریباً 59 فیصد علاقے تک پھیلا دی ہیں۔ دوسری جانب مصر میں ثالثی کی کوششیں جاری ہیں جہاں امریکی حمایت یافتہ منصوبے کے تحت حماس سے 281 دن میں مرحلہ وار ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں امداد اور تعمیر نو کو ہتھیاروں کی حوالگی سے مشروط کیا گیا ہے جسے فلسطینی گروہوں نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔حماس اور دیگر تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ہتھیار ڈالنے کا معاملہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور قبضے کے خاتمے سے مشروط ہونا چاہیے، انسانی امداد کو دباؤ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں شائع کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق اسرائیل کی جنگ کی دھمکیاں سیاسی دباؤ بڑھانے اور اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی ہوسکتی ہیں۔ اسرائیلی فوج پر مختلف محاذوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور طویل فوجی خدمات کے باعث اہلکار تھکن کا شکار ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق خطے میں صورتِ حال بدستور غیر یقینی ہے اور ایک بڑی جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ واضح رہے کہ غزہ میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 72 ہزار 608 تک پہنچ چکی ہے جبکہ تازہ حملوں میں مزید 3 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ اس دوران غزہ میں جاری تباہی اور انسانی بحران کے درمیان نئے اور مہنگے کیفے اور ریستوران کا قیام ایک متضاد حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے۔سوشل میڈیا پر ان خوبصورت مقامات کی تصاویر کو بعض حلقے معمول کی زندگی کی جانب واپسی کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہے ہیں تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حالیہ مشاہدات میں سامنے آیا ہے کہ غزہ سٹی کے ملبے اور تباہ شدہ عمارتوں کے درمیان جدید طرز کے کیفے قائم کیے گئے ہیں جو مہنگے ساز و سامان اور آرائش سے مزین ہیں۔ یہ مناظر ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب علاقے کی اکثریت شدید غربت، بے گھر اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا شکار ہے۔