عاقب سلام
سرینگر// پیر کے روز گرج چمک کے ساتھ ہونے والی موسلادھار بارش نے سری نگر میں معمولاتِ زندگی درہم برہم کر دیے اور شہر کے کمزور شہری ڈھانچے کو بے نقاب کر دیا۔صبح سویرے شروع ہونے والی بارش رش کے اوقات میں مزید تیز ہو گئی، جس سے درجہ حرارت معمول سے کم ہو گیا اور اگرچہ گرمی سے عارضی راحت ملی، لیکن اس کے ساتھ ہی بڑے پیمانے پر خلل بھی پیدا ہوا۔ شہر کے اندرون، بیرون اور مرکزی علاقوں میں سڑکیں زیرِ آب آ گئیں، ٹریفک کی رفتار سست پڑ گئی اور مسافروں کو پانی سے بھرے راستوں پر چلنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔سرینگر کے ڈاؤن ٹاؤن، حضرت بل کے مضافات اور اَپ ٹاؤن کے مختلف حصوں میں پانی جمع ہو گیا، جبکہ خستہ حال سڑکیں جوہڑ کی شکل اختیار کر گئیں۔ مختصر مگر شدید بارش نے نکاسی آب کے نظام کو مفلوج کر دیا، جس کے باعث نالیاں ابل پڑیں اور اہم سڑکوں پر پانی جمع ہو گیا۔مسافروں، خصوصاً موٹر سائیکل سواروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
کئی افراد کو راستے میں ہی رک کر دکانوں کے شیڈز یا عارضی پناہ گاہوں کے نیچے پناہ لینی پڑی۔ایک موٹر سائیکل سوار عادل احمد نے کہا،’’میں لال چوک جا رہا تھا کہ اچانک بارش تیز ہو گئی۔ چند ہی منٹوں میں سڑکیں پانی سے بھر گئیں اور مجھے رک کر انتظار کرنا پڑا۔‘‘پیر کے روز معمول کے رش کے باعث صورتحال مزید خراب ہو گئی، اور شہر کے مختلف علاقوں بشمول ڈاؤن ٹاؤن، سٹی سینٹر اور اہم اپ ٹاؤن سڑکوں پر شدید ٹریفک جام دیکھنے میں آیا۔ پانی بھر جانے اور کم حدِ نگاہ کے باعث گاڑیاں بمشکل آگے بڑھ رہی تھیں۔ایک مسافر مظفر احمد نے بتایا، ’’مجھے ایک ایسا فاصلہ طے کرنے میں تقریباً ایک گھنٹہ لگا جو عام طور پر 15 منٹ میں طے ہو جاتا ہے۔ ٹریفک انتہائی بے ہنگم تھی اور اہم چوراہوں پر کوئی مناسب انتظام نہیں تھا۔‘‘مقامی بازاروں، خاص طور پر ڈاؤن ٹاؤن اور تجارتی مراکز میں بھی بارش کے اثرات محسوس کیے گئے۔ دکانداروں کو اپنا سامان بچانے کے لیے جلدی میں پلاسٹک شیٹس اور ترپال سے ڈھانپتے دیکھا گیا۔پرانے شہر کے ایک ریڑی فروش نے کہا،’’بارش نے ہمیں اچانک آ لیا۔ ہمیں فوراً اپنا سامان ڈھانپنا پڑا، مگر اس کے باوجود کچھ چیزیں بھیگ گئیں۔‘‘حضرت بل کے اطراف کے علاقوں میں رہائشیوں نے ناقص نکاسی آب کے نظام پر شکایت کرتے ہوئے کہا کہ بارش نے ایک بار پھر دیرینہ شہری مسائل کو اجاگر کر دیا ہے۔مضافاتی علاقوں کے کئی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مناسب ڈرینیج نظام نہ ہونے کے باعث معمولی بارش میں بھی پانی جمع ہو جاتا ہے۔غوثیہ کالونی کے ایک رہائشی نے کہا،’’یہاں نکاسی آب کا کوئی مناسب نظام نہیں ہے۔ ہر بارش کے بعد پانی سڑکوں پر جمع ہو جاتا ہے اور بہنے لگتا ہے۔‘‘اگرچہ حکام متعدد بار ان مسائل کو تسلیم کر چکے ہیں، مگر مقامی لوگوں کے مطابق زمینی سطح پر اب تک کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔