سہیل بشیر کار
کشمیر میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہوگا جہاں راجما کا ذائقہ نہ چکھا جاتا ہو۔جہاں راجما کافی tasty ہوتے ہیں وہیں اس کے بہت سے طبی فوائد بھی ہیں۔راجما کو انگریزی میں ‘کڈنی بینز کہا جاتا ہے، اس کےاستعمال سے صحت پر بے شمار مثبت اثرات پڑتے ہیں، جنہیں جاننا اور اِن کا استعمال کرنا صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔
غذائی ماہرین کی جانب سے راجما کو غذائیت سے بھر پور مفید غذا قرار دیا جاتا ہے جبکہ طبی ماہرین اس کا استعمال بطور غذا ایک کپ روزانہ کی بنیاد پر تجویز کرتے ہیں ۔بینائی کی کمزوری یا خون کی کمی کی شکایت لے کر جب بھی کوئی مریض ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو ایسے میں انہیں معالج راجما کے استعمال کا مشورہ لازمی دیتے ہیں، ڈاکٹروں کی جانب سے مریضوں کو تجویز دی جانے والی مثبت غذاؤں کی فہرست میں بھی راجما ضرور نظر آتا ہے۔راجما میں پروٹین، فائبر، فولیٹ، میگنیشیم، پوٹاشیم اور دیگر اہم غذائی اجزا بھرپور مقدار میں پائے جاتے ہیں، راجما کی افادیت کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے ’لال لوبیا‘ کو غریبوں کا گوشت بھی کہا جاتا ہے۔
راجما میں فولیٹ (وٹامن بی9) اور فائبر بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے جس کے سبب اس کا استعمال دل کی بیماریوں سے بچاتا ہے اور شریانوں کو کشادہ کرتا ہے۔راجما میں موجود ڈائیٹری فائبر نظام ہاضمہ کے راستوں میں جَل کا کام کرتا ہے جو کولیسٹرول کو جسم سے خارج کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے، اس کے استعمال سے جسم سے اضافی اور منفی کولیسٹرل کا خاتمہ ممکن ہوتا ہے۔راجما اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کے باعث اینٹی ایجنگ صلاحیت کا حامل ہے، اسے کھانے سے مسوڑھے مضبوط ہوتے ہیں۔راجما بلڈشوگر کی سطح کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے اور آئرن کی کمی دور کرتا ہے۔راجما کا استعمال وزن میں کمی کا ذریعہ بنتا ہے، اس کا روزانہ استعمال وزن میں تیزی سے کمی لاتا ہے۔راجما جسم کے لیے انتہائی ضروری جز پروٹین پر مشتمل اور مضر صحت کولیسٹرول سے پاک غذا ہے جو مجموعی صحت کی بہتری کے لیے بےحد ضروری ہے۔
کشمیر میں جو راجما اُگائے جاتے ہیں، وہ بہت ہی مز یدار ہوتے ہیں۔بھدرواہ کے راجما کو Gi tag بھی ملا ہے، جس سے مارکیٹ میں اس کی اچھی قیمت ملتی ہے۔راجما کے لیے ریتلی اور clay مٹی اچھی ہوتی ہے،بہتر پیداوار کے لئے مٹی میں نمی ہونا لازمی ہے۔راجما لگانے کے لئے دس سے 27 ڈگری ٹمپریچر سب سے موثر ہے، زمین کو کم سے کم دو بار اچھے سے کھودے، دھیان رکھیں کہ کم از کم 20 سینٹی میٹر گہرا کھودیں۔ زمین تیار کرتے وقت ایک کنال میں 10 کوئنٹل سڑا ہوا گوبر ڈالیے، ایک کنال میں یوریا 3 کلو یوریا 5.5 کلو ڈی اے پی اور 4.24 کلو mop کی ضرورت ہے۔ڈی اے پی اور ایم او پی پورا اور یوریا کا نصف بیج لگانے سے پہلے لگائیں۔کشمیر میں راجما لگانے کا بہترین وقت مارچ سے 15 جون تک ہے۔اگر ہم بش ٹائپ کے راجما لگا رہے ہیں تو ایک کنال کے لیے 4 کلو اور اگربیل ٹائپ pole tye ہے تو ایک کنال کے لیے 1.5 کلو بیج درکار ہوتا ہے، بہتر ہے کہ line sowing ہی کریں. بش ٹائپ میں لین سے لین 30 سینٹی میٹر اور پورے سے پودے کے درمیان 10 سینٹی میٹر کا فاصلہ رکھیں اور پول ٹائپ میں لین سے لین کے درمیان 60 سینٹی میٹر اور پودے سے پودے کے درمیان 20 سینٹی میٹر کا فاصلہ رکھیں۔
گوڈائی تین سے چار بار کیجئے۔سینچائی ضرورت پڑنے پر ہی کیجئے۔واضح رہے کہ جہاں راجما لگائی گئی ہو وہاں پانی جمع نہیں ہونا چاہیے۔جہاں پانی جمع رہتا ہے وہاں پیداوار میں کمی ہو سکتی ہے۔جب اکثر pods پک جائے تو harvest کریں اور اچھی طرح سُکھانے کے بعد کسی جگہ اسٹور کیجئے۔
رابطہ9906653927