ایجنسیز
ماسکو// چاڈ میں پانی کے ایک ذریعے تک رسائی کے تنازع پر دو خاندانوں کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں کم از کم 42 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے، ٹیچاڈانفوس پورٹل نے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا۔چاڈ کے نائب وزیر اعظم لیمانے محمد کے مطابق یہ تشدد ’’روایتی وسائل کے تنازعات‘‘ سے متعلق نہیں تھا بلکہ پانی کے ایک ذریعے پر دو خاندانوں کے درمیان جھگڑے کا نتیجہ تھا، جو بعد ازاں وسیع علاقے میں انتقامی کارروائیوں میں تبدیل ہو گیا۔چاڈ کے صدر محمد ادریس دیبی اتنو نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن جائے وقوعہ پر بھیجا، جس میں نائب وزیر اعظم، وزیر دفاع اور چیف آف جنرل اسٹاف شامل تھے۔نائب وزیر اعظم نے بتایا کہ فوج کی تعیناتی کے بعد صورتحال کو قابو میں لے لیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، پڑوسی ملک سوڈان سے آنے والے مہاجرین کی وجہ سے چاڈ کے مشرقی صوبوں میں وسائل کی قلت بڑھ رہی ہے۔