عظمیٰ ویب ڈیسک
بانڈی پورہ/جموں و کشمیر آنے والے سیاحوں نے بدھ کے روز گزشتہ برس کے پہلگام حملے کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ یہ تقریب بانڈی پورہ کے گریز علاقے میں واقع رزدان پاس پر منعقد ہوئی، جہاں حملے کی پہلی برسی کے موقع پر 26 ہلاک افراد کی یاد میں دعائیں کی گئیں اور خاموشی اختیار کی گئی۔یاد رہے کہ 22اپریل 2025کو پہلگام جیسے پُرفضا سیاحتی مقام پر ملی ٹینٹوں نے حملہ کر کے 26 بے گناہ شہریوں کو قتل کر دیا تھا، جس سے پورا ملک سکتے میں آ گیا تھا۔
تقریب میں شریک سیاحوں نے، ٹور آپریٹرز اور ڈرائیوروں کے ہمراہ، اس المناک واقعے کے متاثرین کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حملے لوگوں کے دلوں میں گہرے زخم چھوڑ جاتے ہیں، مگر یہ کشمیر اور ملک کی یکجہتی کو کمزور نہیں کر سکتے۔ممبئی سے آئی ایک خاتون سیاح نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ دُنیا کی کوئی طاقت کشمیر اور بھارت کو تقسیم نہیں کر سکتی۔ کشمیر کی بھائی چارگی اس کے مضبوط رشتے کی بہترین مثال ہے۔ ہم گزشتہ سال کے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں، لیکن یہاں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں اور مقامی لوگوں کی محبت بے مثال ہے۔
ایک اور سیاح نے کہا کہ ملی ٹینسی کبھی بھی لوگوں کو تقسیم نہیں کر سکتی۔ہم آج یہاں اس برسی کے موقع پر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم متحد ہیں۔ ملی ٹینسی ہمیں تقسیم نہیں کر سکتی اور یہاں کی یکجہتی ہمیشہ مضبوط رہے گی۔مقامی ٹورسٹ گائیڈز نے بھی اسی جذبے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ہمیشہ سے سیاحوں کا خیرمقدم کرتا آیا ہے اور امن کو خراب کرنے کی ہر کوشش کے باوجود یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ان کے مطابق، سیاحوں کی اس یادگاری تقریب میں شرکت امید اور حوصلے کی علامت ہے۔
تقریب کا اختتام امن کے لیے دعا اور اتحاد کو برقرار رکھنے کے عزم کے ساتھ ہوا، تاکہ متاثرین کی یادیں ہمیشہ لوگوں کو تشدد کے خلاف مضبوط رہنے کی ترغیب دیتی رہیں۔ادھر بھارتی فوج نے بھی اس موقع پر ملی ٹینسی کے خلاف اپنے عزم کو دہرایا اور ’آپریشن سندور‘ کے تحت کیے گئے جوابی اقدامات کو یاد کیا۔ فوج نے خبردار کیا کہ بھارت کے خلاف کسی بھی کارروائی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔واضح رہے کہ حملے کے بعد بھارت نے 7 مئی 2025 کو ’آپریشن سندور‘ شروع کیا تھا، جس کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ملی ٹینٹوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سرکاری تفصیلات کے مطابق اس کارروائی میں لشکر طیبہ، جیش محمد اور حزب المجاہدین سے وابستہ نو بڑے لانچ پیڈز تباہ کیے گئے اور 100 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
پہلگام حملے کی پہلی برسی: سیاحوں کا خراجِ عقیدت، کہا دُنیا کی کوئی طاقت کشمیر کو تقسیم نہیں کر سکتی