یو این آئی
رم اللہ//غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں کم از کم پانچ فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جس کی تصدیق فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے کی ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق طبی ذرائع نے بتایا کہ وسطی غزہ کے البریج کیمپ میں اسرائیلی فوج کے حملے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ہوا، جبکہ غزہ سٹی میں ایک اور حملے میں ایک شخص جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ بعد ازاں جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مغربی علاقے میں ہونے والے فضائی حملے میں مزید تین افرادجاں بحق ہو گئے، جس کی تصدیق ناصر ہسپتال کے حکام نے کی۔یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل اور حماس کے درمیان دو سالہ جنگ کے بعد اکتوبر میں امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، تاہم اس کے اہم نکات پر عملدرآمد کے حوالے سے پیش رفت تعطل کا شکار ہے۔ دوسری جانب الجزیرہ ٹی وی کے ایک حالیہ سیٹلائٹ تجزیے میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں اپنے فوجی اڈوں اور انفرااسٹرکچر میں بڑے پیمانے پر توسیع شروع کر دی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ میں نئے فوجی اڈے، چوکیاں اور سڑکوں کا جال بچھا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق غزہ میں کم از کم 13 نئی فوجی آٹ پوسٹس (چوکیوں)کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ان تعمیرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل غزہ میں طویل المدتی موجودگی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔اسرائیلی فوج نے نہ صرف نئے اڈے قائم کیے ہیں بلکہ موجودہ فوجی تنصیبات کو بھی پہلے سے زیادہ مضبوط اور وسیع کر لیا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق خان یونس اور سرحدی علاقوں میں فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کئی علاقوں میں فلسطینیوں کی رہائشی عمارتوں کو مسمار کر کے وہاں فوجی تنصیبات قائم کی جا رہی ہیں۔