ایجنسیز
بیجنگ// چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے ایران سے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہازرانی کی آزادی اور محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنائے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ بیجنگ نے اس نوعیت کا مطالبہ کیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری جنگ کے دوران اس اہم آبی گزرگاہ پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔وانگ یی نے بدھ کے روز اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران آبنائے ہرمز میں عالمی جہازرانی کی آزادی اور سلامتی کی ضمانت دینے پر زور دیا۔وانگ کی یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستان کا ایک ثالثی وفد، جس کی قیادت فیلڈ مارشل عاصم منیر کر رہے ہیں، بدھ کو تہران پہنچا تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے نئی امن تجاویز پر بات کی جا سکے۔چین، جو ایران کا قریبی اتحادی اور ایرانی تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے، اس توانائی بحران پر بھی تشویش کا شکار ہے جو امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس ناکہ بندی کے باعث ایران کی بندرگاہوں سے تیل اور گیس لے جانے والے جہازوں کی آمدورفت متاثر ہو رہی ہے۔آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع تقریباً 55 کلومیٹر چوڑی ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی تجارت گزرتی ہے۔اس آبی گزرگاہ کو کھولنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دوسرا بڑا مطالبہ ہے، جبکہ پہلا مطالبہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا ہے۔چینی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق وانگ یی نے عباس عراقچی سے کہا،’’موجودہ صورتحال جنگ اور امن کے درمیان ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور امن کے لیے ایک موقع پیدا ہو رہا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے ساحلی ملک کے طور پر ایران کی خودمختاری، سلامتی اور جائز مفادات کا احترام کیا جانا چاہیے۔