ایجنسیز
کیف// روس نے یوکرین کے شہری علاقوں پر سینکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والا حملہ کیا، جس میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق یہ تقریباً دو ہفتوں میں سب سے بڑا فضائی حملہ تھا۔حکام نے بتایا کہ روس نے تقریباً 700 ڈرونز اور کئی بیلسٹک اور کروز میزائل داغے، جن کا زیادہ تر نشانہ شہری علاقے تھے۔ اقوام متحدہ کے مطابق روس کی مکمل جنگ کے آغاز سے اب تک 15 ہزار سے زائد یوکرینی شہری ان حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔یہ تازہ حملہ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے حالیہ یورپی دورے کے بعد ہوا، جس میں وہ جرمنی، ناروے اور اٹلی گئے تھے تاکہ مزید فضائی دفاعی نظام حاصل کیے جا سکیں جو روسی میزائلوں کو روک سکیں۔ یوکرین کو خدشہ ہے کہ ایران کی جنگ کے باعث امریکہ کے جدید دفاعی نظام کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔زیلنسکی نے کہا،’’ایک اور رات نے ثابت کر دیا کہ روس کسی رعایت یا پابندیوں میں نرمی کا مستحق نہیں۔‘‘انہوں نے جرمنی، ناروے اور اٹلی کا فضائی دفاع کے لیے نئی معاونت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ نیدرلینڈز کے ساتھ مزید سپلائی پر بھی کام جاری ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ اتحادی ممالک نے اپنے وعدوں کے مطابق فوجی امداد فراہم نہیں کی۔کیف میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک 12 سالہ بچہ بھی شامل ہے، جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔کیف کی رہائشی 54 سالہ ٹیٹیانا سوکول نے بتایا کہ دو میزائل ان کے گھر کے قریب گرے اور وہ اپنے کتے کے ساتھ راہداری میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئیں۔انہوں نے کہا،’’تیسرے حملے میں سب کچھ ٹوٹ گیا، ہر چیز اڑ گئی، ہم گھبرا گئے اور سمجھ نہیں آ رہا تھا کہاں جائیں۔ میں نے جو ہاتھ آیا اٹھایا اور کتے کے ساتھ بھاگ گئی۔‘‘جنوبی بندرگاہی شہر اوڈیسا میں 9 افراد ہلاک اور 23 زخمی ہوئے، جبکہ وسطی علاقے ڈنیپرو میں 3 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ جنوبی شہر زاپوریزہیا میں بھی ایک شخص ہلاک ہوا۔یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے کہا،’’ایسے حملوں کو معمول نہیں بنایا جا سکتا۔