ڈاکٹر شگفتہ خالد ی
وادی کشمیر میں صحت کے شعبے کی صورتحال خاص طور پر زچہ و بچہ ہسپتالوں کے حوالے سے ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہی ہے۔ اس سلسلے میں صورہ زچہ و بچہ ہسپتال ایک ایسی مثال ہے جہاں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے کی انتھک محنت اور لگن تو نظر آتی ہے، لیکن بنیادی ڈھانچے اور ضروری سہولیات کی عدم دستیابی ان کی تمام کوششوں پر پانی پھیر دیتی ہے۔ہسپتال میں تعینات ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف محدود وسائل کے باوجود دن رات مریضوں کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ زچہ و بچہ جیسے حساس شعبے میں جہاں ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے یہ عملہ اپنی بساط سے بڑھ کر کام کرتا ہے۔ تاہم جب ہسپتال میں لائف سپورٹ سسٹم، وینٹیلیٹرز اور جدید طبی آلات کی کمی ہو، تو بہترین سے بہترین ڈاکٹر بھی بے بس نظر آتا ہے۔ یہ فقدان نہ صرف مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے بلکہ طبی عملے کے لیے بھی شدید ذہنی تناؤ کا باعث بنتا ہے۔
ہسپتال میں بستروں (Beds) کی تعداد مریضوں کے تناسب سے انتہائی کم ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک ہی بیڈ پر دو مریضوں کو رکھنا پڑتا ہے، جو طبی نقطہ نظر سے انفیکشن پھیلنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایمرجنسی وارڈز اور انتظار گاہوں میں جگہ کی تنگی کی وجہ سے تیمارداروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی گھنٹوں کے طویل انتظار اور پھر مناسب علاج نہ ملنے کی صورت میں غریب مریضوں کو نجی کلینک یا دیگر دور دراز ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے ان پر مالی بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔
ہسپتال جیسے حساس مقام پر جہاں نومولود بچوں اور ماؤں کی صحت کا معاملہ ہو، وہاں صفائی کا اعلیٰ معیار ہونا لازمی ہے۔ بدقسمتی سے صورہ زچہ و بچہ ہسپتال میں صفائی کے انتظامات ناقص ہیں۔ عملے کی کمی اور کچرے کے ڈھیر جابجا نظر آتے ہیں جو کہ خود بیماریوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ ایک صحت مند ماحول کی فراہمی حکومت اور ہسپتال انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔
وادی کے اس اہم طبی مرکز کی حالت زار کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کو فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹروں اور خاص کر پیرامیڈیکل اسٹاف کی نئی اسامیوں کو پُر کرنا تاکہ کام کا بوجھ تقسیم ہو سکے۔صورہ زچہ و بچہ ہسپتال کے ڈاکٹروں کی خدمات بلاشبہ قابلِ ستائش ہیں لیکن صرف انسانی ہمدردی اور محنت سے ہسپتال نہیں چل سکتے۔ جب تک حکومت بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار نہیں کرتی، تب تک مریض اور تیماردار یونہی پریشان حال رہیں گے۔ اس کے علاوہ ایمرجنسی وارڈز اور انتظار گاہوں میں جگہ کی کمی کی وجہ سے تیماردار شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ بیٹھنے کے لیے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے انہیں کئی گھنٹے کھڑے رہنا پڑتا ہے۔ مریض اور تیماردار دونوں صفائی کی کمی، ناقص واش رومز اور کینٹین کی محدود سہولیات سے بھی پریشان ہیں، جو ہسپتال کے ماحول کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔ کئی گھنٹوں کے طویل انتظار اور پھر مناسب علاج نہ ملنے کی صورت میں غریب مریضوں کو دیگر ہسپتال یا نجی کلینک کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے ان پر مالی اور جسمانی بوجھ بڑھ جاتا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ اسے محض ایک عمارت کے بجائے حقیقی معنوں میں ’’شفا خانہ‘‘ بنایا جائے۔