اسلام آباد جانے کے زیادہ خواہشمند،عاصم منیر کا کام بہت اچھا:ٹرمپ
عظمیٰ نیوزسروس
واشنگٹن // امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ دوسرے مرحلے کے مذاکرات آئندہ دو دنوں میں اسلام آباد میں ہو سکتے ہیں۔ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو بتایا’’آپ کو واقعی وہیں رہنا چاہیے، کیونکہ اگلے دو دنوں میں کچھ ہو سکتا ہے، اور ہم وہاں جانے کے زیادہ خواہش مند ہیں‘‘۔ٹرمپ نے اس ممکنہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات کو پاکستان کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ’’بہترین کام‘‘ سے منسوب کیا۔ امریکی صدر نے کہا’’یہ زیادہ ممکن ہے، آپ جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ فیلڈ مارشل بہت اچھا کام کر رہے ہیں‘‘۔فاکس نیوز نے رپورٹ کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے امریکی فیصلے نے تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا۔ایک غیر نامزد امریکی عہدیدارنے فاکس نیوز کو بتایا’’آج اور کل بہت کچھ ہو رہا ہے۔ ہمارے پاس معاہدے کے تمام اجزاء موجود ہیں، لیکن ابھی سب کچھ مکمل نہیں ہوا‘‘۔امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے کہا کہ اس نے صدر ٹرمپ کی ناکہ بندی کے پہلے 24گھنٹوں میں ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی طرف جانے اور وہاں سے آنے والے تمام جہازوں کو کامیابی سے روک دیا۔CENTCOM نے کہا کہ یہ ناکہ بندی ’’تمام ممالک کے جہازوں کے خلاف غیر جانبداری سے‘‘ نافذ کی جا رہی ہے جو ایرانی بندرگاہوں میں داخل یا باہر جا رہے ہیں۔اس نے مزید کہا کہ چھ تجارتی جہازوں نے امریکی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے واپس مڑنے پر رضامندی ظاہر کی۔10,000 سے زائد امریکی فوجی اہلکار اس ناکہ بندی میں شامل ہیں، جن میں 100 سے زیادہ طیارے اور 18 جنگی جہاز شامل ہیں۔CENTCOM نے کہا کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز سے غیر ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے اور آنے والے جہازوں کے لیے’’سمندری آمدورفت کی آزادی‘‘ کو یقینی بنا رہی ہیں۔امریکہ اور ایران اسلام آباد میں گزشتہ ہفتے ہونے والی 21 گھنٹے طویل امن مذاکرات میں کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے، کیونکہ واشنگٹن کا مؤقف تھا کہ تہران نے اپنے جوہری افزودگی کے حق سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔