عظمیٰ نیوز سروس
جموں// جموں و کشمیر میں سیاحت کے شعبے میں تیزی کے آثار کے طور پر، 2025-26 میں ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کی طرف سے 415 عمارتوں کی اجازتیں جاری کی گئیں، جو پچھلے دو مالی سالوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، یونین ٹیریٹری میں 2023 اور 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 807 عمارتوں کی اجازتیں دی گئیں۔اسکے علاوہ ٹورازم ترقیاتی اٹھارٹیزنے گزشتہ تین مالی سالوں میں اہم سیاحتی مقامات پر 500 سے زائد غیر مجاز تعمیرات کی بھی نشاندہی بھی کی ہے۔ اس سلسلے میں حکام نے نوٹس جاری کیے، ایف آئی آر درج کی، جرمانے عائد کیے اور مسماری کی۔دستیاب اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے، محکمہ سیاحت کے حکام نے کہا کہ 2023-24 میں اتھارٹیز کی طرف سے 245 عمارتوں کی اجازت، 2024-25 میں 147 اور 2025-26 میں 415 عمارتوں کی اجازتیں دی گئیں۔اجازت نامے میں 544 رہائشی مکانات، 121 کمرشل عمارتیں، 26 ہوٹل، 14 جھونپڑیاں اور دو گیسٹ ہاس تین سال کے عرصے میں شامل تھے۔عہدیداروں نے بتایا کہ جہاں تک ہوم سٹے کا تعلق ہے، جموں و کشمیر میں محکمہ سیاحت کے ذریعہ 2,613 یونٹس رجسٹر کیے گئے ہیں، جن میں بستروں کی کل گنجائش 19,328 ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں ڈویژن کے بھدرواہ میں سب سے زیادہ 358 غیر قانونی تعمیرات ہیں، جہاں حکام نے خلاف ورزی کرنے والوں کو نوٹس بھیجے ہیں۔عہدیداروں نے بتایا کہ کشمیر میں دودھ پتھری میں 147 غیر مجاز تعمیرات کی نشاندہی کی گئی، جن میں نوٹس جاری کیے گئے اور ایف آئی آر درج کی گئیں، جبکہ پہلگام میں 28 میں سے 13 غیر قانونی تعمیرات کو سیل کیا گیا، اور باقی کے خلاف کارروائی جاری ہے۔عہدیداروں نے بتایا کہ گلمرگ کے مشہور سکی ریزورٹ میں 21 غیر قانونی ڈھانچوں کی نشاندہی کی گئی، 20 سیل اور ایک کو مسمار کر دیا گیا جبکہ سونمرگ میں پانچ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی اور ویری ناگ میں چار غیر مجاز تعمیرات پر جرمانہ عائد کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ جموں خطہ کے پٹنی ٹاپ میں 15 غیر قانونی ڈھانچے منہدم کئے گئے اور کئی دیگر کو ابتدائی مراحل میں روک دیا گیا۔عہدیداروں نے کہا کہ منظور شدہ ماسٹر پلان والے علاقوں بشمول گلمرگ، پہلگام اور سونمرگ میں چیف ٹائون پلانر کے دفتر کے ذریعہ مجاز تعمیرات کی جی آئی ایس پر مبنی انوینٹری کی دیکھ بھال کی جارہی ہے۔جبکہ GIS پر مبنی ایک جامع انوینٹری ابھی تیار ہونا باقی ہے۔