عظمیٰ نیوزسروس
جموں//وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اہم سماجی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے اِجتماعی ذِمہ داری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت پر کئی ذِمہ داریاں عائد ہوتی ہیں لیکن بہت سی ذِمہ داریاں پوری سوسائٹی کو مل کر نبھانی ہوں گی۔اُنہوں نے اِن باتوں کا اِظہار کنونشن سینٹر میں محکمہ سکولی تعلیم کی جانب سے منعقدہ تین روز ہ صوبائی سطح کے بیداری پروگرام کاآغاز کرتے ہوئے کیا۔وزیر اعلیٰ نے طلبأ اور دیگر شرکأ کے ایک بڑے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کے دائرہ کار میں صرف آنے والی ذمہ داریوںجیسے سڑکوں، پُلوں اور ہسپتالوں کی تعمیر اور وہ ذمہ داریاں جن کے لئے عوام کی فعال شرکت ضروری ہے، کے درمیان واضح فرق کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے کہا،‘‘حکومت کے علاوہ عوام کا ماحولیاتی تحفظ اور کلیدی عوامی اثاثوںکے تحفظ میں ان کی شہری ذِمہ داری کے طور پر اہم کردار ہے۔‘‘اُنہوں نے شہری ذمہ داری کے حوالے سے اس رجحان پر تشویش کا اِظہار کیاکہ لوگ ہر معاملے بالخصوص صفائی کے معاملات میں سارا الزام حکومت پر ڈال دیتے ہیں۔ اُنہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اَپنی روزمرہ زِندگی میں ذمہ دارانہ رویہ اِختیار کریں اور کہا کہ صاف ستھرا اور بہتر معاشرہ صرف اِجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔وزیراعلیٰ نے اِس بات پر زور دیا کہ اگر معاشرہ اس طرح کے اقدامات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے تو جموںوکشمیر عالمی معیار کے مطابق ہوسکتا ہے ۔ اُنہوں نے نوجوانوں کو ایک بہتر اور ذمہ دار معاشرے کی تعمیر میں آگے بڑھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا،’’اگر آپ آج لئے گئے عہد پر عمل کریں تو ہم نہ صرف ملک کے اندر بلکہ عالمی سطح پر بھی مقابلہ کر سکتے ہیں۔‘‘عمر عبداللہ نے ذہنی صحت کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ اَب بھی معاشرے میں ایک ناسور کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اُنہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنے والوں کے ساتھ ہمدردی اور سمجھداری کا مظاہرہ کریں۔ اُنہوں نے کہا،’’ہمدردی کے چند الفاظ بھی کسی کو مشکل وقت سے نکلنے کا حوصلہ و ہمت دے سکتے ہیں۔‘‘اُنہوں نے منشیات کے اِستعمال کے حوالے سے کہا کہ اس بدعت کے خلاف جنگ صرف حکومت اکیلے نہیں جیت سکتی۔ اُنہوں نے سول سوسائٹی، تعلیمی اِداروں، مذہبی رہنماؤں اور شہریوں پر زور دیاکہ وہ جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اُنہوں نے کہا،’’اگر ہم اسے صرف حکومت پر چھوڑ دیں گے تو کامیابی ممکن نہیں، ہر ایک کو اَپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔‘‘وزیر اعلیٰ نے نے طلبأ کو کیریئر کونسلنگ کے اقدامات کے ذریعے نئے مواقع تلاش کرنے کی بھی ترغیب دی اور کہا کہ ایسے پروگرام نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔اُنہوں نے ماحولیاتی ذمہ داری کو اُجاگرکرتے ہوئے شجرکاری مہم کی وکالت کی اور کہا کہ رسمی اقدامات کے بجائے بامعنی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا،’’شال دینے کے بجائے ہمارے نام پر درخت لگائیں۔ اگر چند ایک زندہ بھی رہیں تو یہ دیرپا خدمت ہوگی۔‘‘ اُنہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ ایک مشترکہ فریضہ ہے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ٹریفک بیداری کے حوالے سے کہا کہ ہیلمٹ پہننا اور سیٹ بیلٹ کا اِستعمال حکومت پر احسان نہیں بلکہ اَپنی اور اپنے کنبے کی حفاظت کے لئے ضروری ہے۔ اُنہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ روڈ سیفٹی اقدامات پر سنجیدگی سے عمل کریں۔وزیراعلیٰ نے طلبأ کو سکرین ٹائم کم کرنے اور ہمہ جہتی ترقی پر توجہ دینے کا مشورہ بھی دیا اور کہا کہ مناسب رہنمائی کے ساتھ نوجوان نسل مثبت تبدیلی لاسکتی ہے۔اِس موقعہ پر عمر عبداللہ نے ذہنی صحت، منشیات سے نجات، کیریئر کونسلنگ، ٹریفک سیفٹی اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق حلف بھی دِلایا۔اُنہوں نے بھارتی ایئرٹیل کی جانب سے فراہم کردہ انوویشن کِٹس اور سٹیشنری کِٹس، ایس بی آئی فاؤنڈیشن کی جانب سے صفائی کِٹس اور اِی سی سی اِی کے تحت آؤٹ ڈور آلات بھی تقسیم کئے۔ اِس کے علاوہ پروگرام سے وابستہ ماہرین اور ریسورس پرسنوں کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔اِس موقعہ پر وزیر برائے صحت و طبی تعلیم ، سماجی بہبود اور تعلیم سکینہ اِیتو نے کہا کہ طلبأ کی پُر جوش شرکت ان کے سماجی ترقی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ اُنہوں نے اس بیداری مہم کو ذہنی صحت، منشیات کے اِستعمال، ماحولیاتی تحفظ، ٹریفک بیداری اور کیریئر رہنمائی جیسے اہم مسائل کو اُجاگر کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیا۔اُنہوںنے تمام شراکت داروںسے اپیل کی کہ وہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اِجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا،’’اگر ہر طالب علم، آئی سی ڈِی ایس کارکن اور صحت عملہ ایک درخت لگائے تو ماحولیاتی تحفظ میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔‘‘وزیر موصوفہ نے منشیات کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر بھی زور دیا اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اور جموں و کشمیر کے مستقبل کے تحفظ کے لئے آگے آئیں۔وزیراعلیٰ کے مشیرناصر اسلم وانی نے اپنے خطاب میں قوانین پر عمل درآمد اور کم عمر سے ہی شعور بیدار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے منشیات کے استعمال سے نمٹنے کے لئے مسلسل بیداری مہم چلانے کی ضرورت کو بھی اُجاگر کیا۔رُکن اسمبلی جموں ویسٹ اَروند گپتا نے منشیات کے خاتمے کے لئے سول سوسائٹی کی فعال شرکت پر زور دیا اور وزیراعلیٰ کی قیادت کو سراہتے ہوئے خطے کی ترقی و خوشحالی کے حوالے سے اُمید ظاہر کی۔ تقریب میں ناظم سکولی تعلیم جموں نسیم جاوید چودھری، ناظم سماجی بہبود جموں، دیگرسینئر افسران اور بڑی تعداد میں طلبأ نے شرکت کی جبکہ صوبہ جموں کے دسوں اضلاع سے شرکأ نے بذریعہ ورچیول موڑ پروگرام میں حصہ لیا۔