عظمیٰ نیوزسروس
جموں / / جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کے روز قانون کے طلباءکے ایک وفد سے ملاقات کی، جس میں جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کے مطالبے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔طلباءنمائندوں کے مطابق وزیر اعلیٰ نے اس مطالبے پر غور کے لیے 10دن کا وقت مانگا اور یقین دلایا کہ اس معاملے کو آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ یہ مسئلہ مثبت انداز میں حل ہو سکتا ہے۔ملاقات کے دوران طلباءنے جموں میں نیشنل لایونیورسٹی کے قیام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں قانونی تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ طلباءکو بہتر تعلیمی مواقع فراہم ہوں گے۔ اس پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بتایا کہ وہ خود بھی جموں میں نیشنل لایونیورسٹی کے قیام کے حامی ہیں، تاہم اس کے لیے مالی وسائل اور بجٹ کی دستیابی کا جائزہ لینا ضروری ہے۔طلباءکے ایک نمائندے کے مطابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس معاملے کو کابینہ میں زیر غور لایا جائے گا اور بجٹ کے ذرائع کا تعین کیا جائے گا، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تجویز کا بغور جائزہ لیا جائے گا تاکہ اس کے تمام پہلوؤں، خاص طور پر مالی انتظامات، کو مدنظر رکھا جا سکے۔طلباءوفد نے ملاقات کے بعد اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ جموں میں بھی جلد نیشنل لایونیورسٹی قائم کی جائے گی، جیسا کہ کشمیر میں اس طرح کے ادارے کے قیام کی تجویز زیر غور ہے۔