سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری کے سب ڈویژن بدھل کے انتہائی دور افتادہ گاؤں ترگائیں سے تعلق رکھنے والے ایک کم عمر طالب علم نے غیر معمولی ذہانت اور تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیہی علاقوں کے لیے ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔ کلاس دہم کے سولہ سالہ طالب علم زاہد علی، جو محمد حفیظ کے فرزند ہیں، نے گھریلو استعمال کی عام اشیاء کی مدد سے دو فعال ماڈل تیار کیے ہیں جن میں ایک مٹی کھودنے والی مشین (ارتھ ایکسکیویشن مشین) اور دوسرا منی ہائیڈل پاور پروجیکٹ شامل ہے۔ذرائع کے مطابق زاہد علی کو بچپن ہی سے سائنسی اور تخلیقی کاموں میں گہری دلچسپی رہی ہے۔ محدود وسائل اور کسی بھی قسم کی باقاعدہ تکنیکی تربیت کے بغیر انہوں نے گھر پر ہی محنت کرتے ہوئے یہ ماڈلز تیار کیے۔ ان کا پہلا منصوبہ ایک ارتھ ایکسکیویشن مشین کا ماڈل ہے جسے انہوں نے لکڑی، پلاسٹک، تاروں اور دیگر گھریلو اشیاء سے تیار کیا۔ یہ ماڈل نہ صرف مشین کے بنیادی ڈھانچے کو ظاہر کرتا ہے بلکہ انجینئرنگ کے ابتدائی اصولوں کی واضح سمجھ بوجھ بھی پیش کرتا ہے۔اسی طرح انہوں نے ایک چھوٹے پیمانے پر منی ہائیڈل پاور پروجیکٹ بھی تیار کیا ہے۔
اس منصوبے میں قریبی نالے یا چشمے کے پانی کو استعمال کرتے ہوئے توانائی پیدا کرنے کا عملی مظاہرہ کیا گیا ہے۔ یہ نظام ابتدائی مرحلے میں ہونے کے باوجود بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پیدا ہونے والی توانائی کو سادہ وائرنگ کے ذریعے محفوظ کیا جا رہا ہے اور اس کا عملی استعمال موبائل فون چارج کرنے کے لیے بھی دکھایا گیا ہے۔زاہد علی کا کہنا ہے کہ ان دونوں منصوبوں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی بھی ادارہ جاتی مدد، لیبارٹری سہولت یا مالی معاونت کے بغیر مکمل طور پر گھریلو سطح پر تیار کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگر انہیں مناسب رہنمائی، جدید آلات اور سائنسی سہولیات میسر آئیں تو وہ مستقبل میں اس سے بھی بڑے اور جدید منصوبے تیار کر سکتے ہیں۔ان کی اس کامیابی نے پورے ترگائیں گاؤں میں خوشی اور حیرت کی لہر دوڑا دی ہے۔ مقامی لوگ بڑی تعداد میں ان کے گھر آ کر ان کے تیار کردہ ماڈلز دیکھ رہے ہیں اور ان کی صلاحیتوں کو سراہ رہے ہیں۔ اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ ذاہد علی نے نہ صرف اپنے گاؤں کا نام روشن کیا ہے بلکہ دیہی علاقوں کے دیگر طلبہ کے لیے بھی ایک روشن مثال قائم کی ہے کہ محدود وسائل کے باوجود بھی بڑی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔مقامی سطح پر اسے ایک غیر معمولی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، اور لوگ امید ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر ایسے ہونہار طلبہ کو سرپرستی اور مواقع فراہم کیے جائیں تو یہ ملک و خطے کے لیے بڑے سائنسدان اور انجینئر بن سکتے ہیں۔زاہد علی کو اس علاقے کا پہلا طالب علم قرار دیا جا رہا ہے جس نے اپنی مدد آپ کے تحت اس نوعیت کے سائنسی ماڈلز تیار کیے ہیں، جو دیہی نوجوانوں کی صلاحیت، لگن اور محنت کا واضح ثبوت ہے۔