ایجنسیز
گیلسن کرچن، جرمنی /فٹ بال کی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو محض کھیل نہیں رہتے بلکہ فن کا نمونہ بن جاتے ہیں۔ 16 جون 2006 کی وہ دوپہر بھی ایسی ہی تھی، جب نیلی اور سفید جرسی پہنے 11 کھلاڑیوں نے سربیا اینڈ مونٹی نیگرو کے خلاف میدان میں قدم رکھا۔ اس دن انہوں نے فٹ بال نہیں کھیلا، بلکہ سبز گھاس کے کینوس پر ایک ایسی تصویر کشی کی جو آج بھی شائقین کے حافظے میں تازہ ہے ۔کھیل کے 31 ویں منٹ میں ارجنٹائن نے اپنے ہاف سے ایک ایسی موو کا آغاز کیا جس میں کوئی عجلت تھی نہ کوئی طاقت کا وحشیانہ اظہار۔
یہ ایک مراقبے جیسی کیفیت تھی جہاں گیند ایک جاندار شے کی طرح ایک پیر سے دوسرے پیر تک انتہائی نفاست سے سفر کر رہی تھی۔خافیئر میسچرانو، رابرٹو ایالا اور ہوان پابلو سورین کے درمیان یہ محض پاسز کا تبادلہ نہیں تھا، بلکہ ایک خاموش زبان تھی جو میدان کے چپے چپے پر بولی جا رہی تھی۔اس پورے کھیل کا مرکز ہوان رومان رکلمے تھے ، جو کسی ماہر موسیقار کی طرح اس سمفنی کی سمت اور رفتار طے کر رہے تھے ۔ سربیا کے کھلاڑی سائے کے پیچھے بھاگ رہے تھے ، جبکہ ارجنٹائن کے کھلاڑی مثلث اور چوکور جیسے جیومیٹریکل پیٹرن بناتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے ۔10، 15 اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے 24 پاسز مکمل ہوئے ۔ 54 سیکنڈز تک جاری رہنے والا یہ سفر اچانک ایک بپھری ہوئی لہر میں بدل گیا۔میکسی روڈریگز نے گیند خافیئر ساویولا کو دی، جنہوں نے اسے اسٹیبان کیمبیاسو کی طرف بڑھایا۔ کیمبیاسو نے گیند باکس کے اندر موجود ہرنان کرسپو کو پاس کی۔ کرسپو، جو کہ سخت نگرانی میں تھے ، نے یہاں اپنی بصیرت کا وہ نمونہ پیش کیا جو کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ انہوں نے اپنی ایڑی کے ایک خوبصورت لمس سے گیند کو دوبارہ کیمبیاسو کی راہ میں رکھ دیا۔کیمبیاسو نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنے بائیں پاؤں سے ایک زوردار شاٹ لگایا اور گیند جال میں جا گری۔نو مختلف کھلاڑیوں کے پیروں سے گزر کر ہونے والا یہ گول فٹ بال کی تاریخ کا وہ باب ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ اصل جادو اس وقت جنم لیتا ہے جب کوئی تنہا ‘جادوگر’ بننے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ پوری ٹیم ایک روح بن کر کھیلتی ہے ۔ کیمبیاسو جب بانہیں پھیلا کر جشن منانے دوڑے ، تو وہ کسی ہیرو کی طرح نہیں بلکہ اس فنکار کی طرح لگ رہے تھے جس نے ابھی ابھی اپنی زندگی کا بہترین شاہکار مکمل کیا ہو۔