سوچتا ہوں فسردگی کیوں ہے
زندگی میں یہ بے حِسی کیوں ہے
کیوں ہے یہ عادتِ جبیں سائی
ہر کسی کی یہ بندگی کیوں ہے
رُوبہ رُو ہیں وہ جھیل سی آنکھیں
پھر بھی ہونٹوں پہ تشنگی کیوں ہے
اُس کو شاید مذاق ہے سُوجھا
اُس کے ہونٹوں پہ یہ ہنسی کیوں ہے
دُشمن انسان کا بن گیا دُشمن
رسم ایسی مگر چلی کیوں ہے
اُس کی آمد میں دیر ہے شاید
دل کی محفل میں خامشی کیوں ہے
میں کہ اکثر یہ سوچتا ہوں ہتاش ؔ
اس قدر تم میں سادگی کیوں ہے
پیارے ہتاش
دور درشن گیٹ لین جانی پورہ جموں
موبائل نمبر؛8493853607
میں کبھی خود کو فسردہ نہیں ہونے دیتا
غم کی اک بوند کو دریا نہیں ہونے دیتا
ہر گھڑی مجھ میں اُمڈتے ہیں غموں کے سیلاب
وقت مجھ کو کبھی صحرا نہیں ہونے دیتا
اپنی یادوں کو وہ کر دیتا ہے میرے ہمراہ
جب بچھڑتا ہے تو تنہا نہیں ہونے دیتا
جب بھی ملتا ہے کلیجے سے لگا لیتا ہوں
میں غم ِ یار کو رسوا نہیں ہونے دیتا
پیار کا روگ بڑھاتا ہے مسیحا میرا
کتنا اچھا ہے کہ اچھا نہیں ہونے دیتا
تیر نظروں کے چلاتا ہے کئی دل پہ مگر
ایک بھی زخم وہ گہرا نہیں ہونے دیتا
یوں تو ملتا ہے وہ ہر روز خیالوں میں رفیق ؔ
وصل کا بھید مگر وا نہیں ہونے دیتا
رفیقؔ عثمانی
سابق آفس سپرانٹنڈٹ
BSNLآکولہ ،مہاراشٹرا
وہی ہے رات کا پچھلا پہر، مگر مہتاب زندہ ہے
کسی ویران بستی میں ابھی اک خواب زندہ ہے
ابھی تک چاندنی راتوں میں لہراتی ہے وہ خوشبو
ابھی تک دل کی دھڑکن میں کوئی بیتاب زندہ ہے
کبھی ہم بھول جاتے ہیں مگر یادیں نہیں مرتیں
کسی کے پیار کا آنکھوں میں اب بھی آب زندہ ہے
نہیں وہ شخص لیکن اس کی باتیں گونجتی ہیں اب
کتابِ زندگی میں کوئی تو اک باب زندہ ہے
یہ راہیں یہ فضا ئیں ، چاندنی، یہ رات کا منظر
گواہی دیتے ہیں، وہ پیار کا سُرخاب زندہ ہے
وہی ہے تشنگی، جذبات، آنکھوں میں نمی باقی
صراطِ عشق کا شاید کوئی محراب زندہ ہے
ہے فنا ہی زیست کا انجام یہ مانا پھر بھی
دھرتی کی کوکھ میں شجر ؔسبز و شاداب زندہ ہے
ریحانہ شجرؔ
وزیر باغ سرینگر، کشمیر
[email protected]
رستے مشکل نہ تیرگی سے ہوئے
دل میں جذبوں کی سب کمی سے ہوئے
دل لگایا تھا اک خوشی کے لئے
اور محروم ہر خوشی سے ہوئے
تیغ و تلوار سے جو ہو نہ سکے
کام وہ پیار و آشتی سے ہو
دشمنوں سے کریں شکایت کیا
ہم تو گھائل ہی دوستی سے ہوئے
خود قدم تیرے در کو جاتے ہیں
ایسے مجبور عاشقی سے ہوئے
کیا ہمیں چھوڑ کر گئے وہ معین
دور پھر ہم بھی زندگی سے ہوئے
معین فخر معین
موبائل نمبر؛03443837244
جدائی کا شکوئہ نہ شکوہِ دوراں ہمیں اب کسی کی ضرورت نہیں ہے
تمہارا تصور ہی کافی ہے دل کو، کسی اور شے کی فراغت نہیں ہے
تیرے نقشِ پا پر بچھا دیں گے پلکیں، جو اذنِ تمنا ملے ہم کو جاناں
ترے سنگِ در پہ جو سر کو جھکا دیں، تو پھر ہم کو فکرِ قیامت نہیں ہے
محبت کی راہوں میں ٹھوکر بھی کھائی، مگر تیری الفت کی شمع جلائی
تری یاد کا ایک تارہ سلامت تو پھر ہم کو کوئی بھی وحشت نہیں ہے
تمہی زندگی ہو، تمہی بندگی ہو، تمہی سے ہے قائم مری کائنات اب
اگر تم نہیں ہو تو کچھ بھی نہیں ہے، کسی کام کی یہ طبیعت نہیں ہے
وہ نظریں ملانا، وہ نظریں چرانا، وہ خاموش رہ کر سبھی کچھ بتانا
خدا کے لئے اب یہ کہہ دو صنم تم، کہ کیا یہ وفائے محبت نہیں ہے
خیالوں میں تم ہو، دعاؤں میں تم ہو، مرے دل کی گہری صداؤں میں تم ہو
جدھر دیکھتا ہے یہ قیسؔ اب تو تم ہو، اسے خود سے ملنے کی فرصت نہیں ہے
کیسر خان قیس
ٹنگواری بالا ضلع بارہ مولہ ، کشمیر
چراغوں کا لہو پی کر ہے اجلی شام آہستہ
کہ آتے نہیں سمجھ یہ زلف کے بھی دام آہستہ
مرے بیتاب سینے میں عجب آئینہ حسرت ہے
یہ دل نازک سہی لیکن مجھے بھی تھام آہستہ
سدا لہجے میں اپنے تم نمی نرمی بسا لینا
کہ ہوتے ہیں خدا کے ہاں دلوں کے کام آہستہ
ہزاروں خواب مدفن ہے اسی خاموش بستی میں
مچا اے عشق خواہش کا ذرا کہرام آہستہ
مجھے ساقیؔ نہیں معلوم کیا سیراب ہونا ہے
پلا مجھ بے طلب کو یہ طلب کا جام آہستہ
ساقی اعجاز
موبائل نمبر؛6005500468
دردِ دل وسیع آسماں اپنا
ہوا ہے زخمِ دل بھی جہاں اپنا
دردِ دل سناؤں میں کسے ہاے!
ہو اُن سا کوئی پاسباں اپنا
جدا ہوئے ان سے ہر اک پہر
جن سے بسا تھا آشیاں اپنا
ممکن نہیں کہ انہیں بھول جاؤں
چاہے ہر گھڑی ہو امتحاں اپنا
کروٹِ وقت سے حقیقت یہ کھلی
سدا تو بس رہا دردِ پنہاں اپنا
دل کی بستی میں شورِ الم برپا
لمحہ بھی نہ ٹھہرا مہرباں اپنا
صائمہؔ تیری وفا کا عجب صلہ ملا
ہر ایک گلشن ہوا بیاباں اپنا
صائمہ مقبول
جموں و کشمیر
بد گمان جب سے یہ موسم ہو گیا
یکجا چمن میں شعلہ وشبنم ہو گیا
مسرت کے اس دیار میں دیکھ تو
رونما کیسے یہ الم ہو گیا
سب ستاروں کو جس پہ ناز تھا
مہتاب وہ کیوں کر مدھم ہو گیا
تھا نظام جو یہاں بہار کا
جانے کیوں آج درہم برہم ہو گیا
تحریر کرتے قادریؔ یہ واقعات
دم بخود کیوں ترا کاغذ و قلم ہو گیا
فاروق احمد قادریؔ
کوٹی ڈوڈہ، جموں