عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر اسمبلی میں گاندربل انکاؤنٹر کے معاملے پر نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے اراکین اسمبلی نے شدید احتجاج کرتے ہوئے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اراکین نے الزام عائد کیا کہ ایک بے گناہ شخص کو فرضی مقابلے میں قتل کیا گیا ہے۔وقفہ سوالات شروع ہونے سے قبل این سی کے اراکین اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اور کہا کہ گاندربل میں ایک معصوم شہری کو جعلی انکاؤنٹر میں مارا گیا ہے۔
رکن اسمبلی مبارک گل نے کہا، ایسے واقعات نہیں ہونے چاہئیں۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ لیفٹیننٹ گورنر نے انکوائری کا حکم دیا ہے، لیکن محکمہ داخلہ اور وزیر داخلہ کو واضح پیغام دینا چاہیے کہ اس حساس ریاست میں کسی بے گناہ کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ عسکریت پسندوں اور عام شہریوں میں فرق ہونا چاہیے۔اسپیکر نے جواب میں کہا کہ اس معاملے کی پہلے ہی تحقیقات کا حکم دیا جا چکا ہے۔
کانگریس کے رکن اسمبلی عرفان حفیظ لون نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان میں پلے کارڈ بھی لہرایا اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی۔این سی کے رکن اور ریٹائرڈ جسٹس حسنین مسعودی نے نشاندہی کی کہ مقتول کی نعش اب تک اہل خانہ کے حوالے نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ باعزت تدفین ہر شہری کا آئینی حق ہے۔
کانگریس کے رکن نظام الدین بھٹ نے کہا کہ مجسٹریل انکوائری ناکافی ہے اور عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہاانصاف کا تقاضا ہے کہ معاملے کو جلد از جلد نمٹایا جائے۔این سی کے رکن میر سیف اللہ نے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سکیورٹی فورسز کو قابو میں رکھا جائے اور مکمل تحقیقات کرائی جائے۔
دوسری جانب بی جے پی کے رکن آر پٹھانیہ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ ایوان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ انہوں نے کہا، میرے آٹھ سوالات اس بنیاد پر مسترد کیے گئے کہ وہ لیفٹیننٹ گورنر یا حکومت ہند سے متعلق ہیں، تو پھر اس معاملے پر ایوان میں بحث کیسے ہو رہی ہے؟واضح رہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کے روز اس واقعے کی مجسٹریل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
گاندربل انکاؤنٹر پر اسمبلی میں ہنگامہ، عدالتی تحقیقات کا مطالبہ