ایجنسیز
اوٹاوا// سینئر سفارتکار مہاویر سنگھوی نے ٹورنٹو میں بھارت کے نئے قونصل جنرل کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب نئی دہلی اور اوٹاوا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کی کوششیں جاری ہیں۔مہاویر سنگھوی، جو 1999 بیچ کے انڈین فارن سروس افسر ہیں، اس سے قبل نئی دہلی میں وزارتِ خارجہ کے ہیڈکوارٹر میں ایڈیشنل سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ٹورنٹو میں بھارتی مشن کے مطابق ان کی تقرری ایسے اہم وقت میں عمل میں آئی ہے جب بھارت اور کینیڈا کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ تجارت، ٹیکنالوجی، تعلیم اور جدت جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ سنگھوی کینیڈین شراکت داروں اور متحرک بھارتی نڑاد برادری کے ساتھ مل کر باہمی اعتماد کو فروغ دینے، شراکت داری کو وسعت دینے اور مشترکہ اقدار کی بنیاد پر مستقبل کی مضبوط شراکت قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔تقریباً 25 سالہ سفارتی کیریئر کے دوران سنگھوی نے کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں، جن میں نئی اور ابھرتی ہوئی اسٹریٹجک ٹیکنالوجیز اور انسداد دہشت گردی ڈویڑنز کی سربراہی بھی شامل ہے۔انہوں نے یہ عہدہ ایسے وقت میں سنبھالا ہے جب بھارت اور کینیڈا نے حال ہی میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ایک نیا فریم ورک طے کیا ہے، جس کے تحت 2030 تک باہمی تجارت کو 50 ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔یہ فریم ورک کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے دور? بھارت کے دوران طے پایا تھا۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران دونوں ممالک نے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے متعدد اقدامات بھی کیے ہیں۔واضح رہے کہ 2023 میں سابق کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی جانب سے ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت کے ممکنہ کردار کے الزامات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے، تاہم بھارت نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔