محمد بشارت
کوٹر نکہ //ضلع راجوری کے تعلیمی زون کوٹرنکہ میں اسکولی عمارتوں کی عدم دستیابی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، جس کے باعث بچوں کا تعلیمی مستقبل دائوپر لگ گیا ہے۔ خاص طور پر بلاک بدھل نیو کی پنچایت حلقہ ڈھنڈوت میں گورنمنٹ مڈل اسکول کی عمارت نہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ چار سال سے طلبہ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔اس سلسلے میں سابقہ سرپنچ شائیدہ پروین نے عوامی نمائندگی کرتے ہوئے اسکول عمارت کی تعمیر میں تاخیر پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول گزشتہ چار برسوں سے بغیر کسی مستقل عمارت کے انتہائی کسمپرسی کی حالت میں چل رہا ہے، جہاں آٹھ جماعتوں کے 170 سے زائد طلبہ پنچایت گھر کے محض دو کمروں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس قدر بھیڑ بھاڑ میں نہ تو معیاری تعلیم فراہم کی جا سکتی ہے اور نہ ہی بچوں کی مناسب ذہنی و جسمانی نشوونما ممکن ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف تعلیمی نظام پر سوالیہ نشان ہے بلکہ بچوں کی صحت اور مستقبل کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔موصوفہ نے مزید کہا کہ علاقے کے عوام نے اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اسکول کے لیے زمین بھی فراہم کر دی ہے اور اس حوالے سے تمام قانونی تقاضے مکمل کیے جا چکے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود متعلقہ محکمہ کی جانب سے تعمیراتی عمل شروع نہ ہونا افسوسناک ہے۔انہوں نے ایم ایل اے بدھل جاوید اقبال چوہدری کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی ذاتی دلچسپی سے تقریباً چار ماہ قبل اسکول عمارت کی تعمیر کے لیے 32 سے 33 لاکھ روپے منظور کیے گئے، جس سے عوام میں امید کی نئی لہر پیدا ہوئی، لیکن فنڈز کی منظوری کے باوجود محکمہ تعلیم کی جانب سے تاحال ٹینڈر جاری نہ کرنا انتظامی غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔یاد رہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے مقامی عوام کئی بار پرامن احتجاج کر چکے ہیں۔ تین سال قبل طلبہ نے اپنے بنیادی حق کے حصول کے لیے سڑک تک بند کی، مگر انہیں صرف یقین دہانیاں ہی ملیں۔مکینوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے ٹینڈر عمل مکمل کروائیں تاکہ اسکول کی عمارت کی تعمیر جلد از جلد شروع ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے بچوں کا مستقبل مزید خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا، ان کی تعلیم اور خواب فوری اقدامات کے منتظر ہیں‘۔ڈھنڈوت کے عوام کو امید ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس دیرینہ مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے جلد حل نکالیں گے تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول میسر آ سکے اور ان کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔