عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر میں 3,100 سے زائد سرکاری اسکولوں میں گزشتہ چار برسوں کے دوران طلبہ کا داخلہ صفر یا 10 فیصد سے بھی کم رہا ہے، جبکہ ان اداروں میں 2,500 سے زیادہ اساتذہ تعینات ہیں۔یہ اعداد و شمار اسمبلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی آر ایس پٹھانیا کے ایک سوال کے تحریری جواب میں ریاست کی وزیر تعلیم سکینہ اتو کی جانب سے جاری کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق مرکز کے زیر انتظام خطے کے کل 3,192 اسکول ایسے ہیں جہاں داخلہ صفر یا 10 سے کم ہے، جبکہ ان اسکولوں میں اس وقت 2,518 اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔
جموں صوبہ میں ایسے 508 اسکولوں کے ساتھ کٹھوعہ ضلع سرفہرست ہے، اس کے بعد ادھم پور (188)، راجوری (174)، ریاسی (161)، جموں (130)، ڈوڈہ (111)، کشتواڑ (89)، سامبا (60)، رام بن (56) اور پونچھ (17) شامل ہیں۔ مجموعی طور پر جموں صوبے میں کم داخلہ والے 1,494 اسکول ہیں، جہاں 1,934 اساتذہ تعینات ہیں۔
کشمیر صوبہ میں بارہمولہ میں سب سے زیادہ 396 اسکول ہیں، اس کے بعد شوپیاں (270)، کپواڑہ (228)، اننت ناگ (168)، بندی پورہ (156)، گاندربل (138)، پلوامہ (102)، بڈگام (96)، سری نگر (90) اور کولگام (54) شامل ہیں۔ کشمیر صوبہ میں ایسے کل 1,698 اسکول ہیں جہاں 584 اساتذہ تعینات ہیں۔جموں و کشمیر کے سابق وزیر تعلیم اور پی ڈی پی کے رہنما نعیم اختر نے کہا کہ یہ اعداد و شمار تعلیم کے تئیں حکومت کی بے حسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں امید تھی کہ قانون و انتظام کے دباؤ سے آزاد ہونے کے بعد حکومت تعلیم اور صحت پر زیادہ توجہ دے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا اور بنیادی مسائل حل نہیں کیے گئے، جس کی وجہ سے محکمہ صرف اساتذہ کے لیے روزگار کا ذریعہ بن کر رہ گیا ہے۔‘‘
ایک ماہر تعلیم نے کہا کہ ایسے اسکولوں میں جہاں طلبہ کی تعداد صفر یا 10 سے کم ہے، وہاں بڑی تعداد میں اساتذہ کی تعیناتی بدانتظامی کا مسئلہ ہے، نہ کہ محض حکومتی ناکامی۔ انہوں نے کہا کہ ’’جموں و کشمیر میں اساتذہ کے تبادلوں کے لیے ایک ٹرانسفر پورٹل موجود ہے، جسے اساتذہ کی بہتر تقسیم کے لیے بھی مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ پورٹل اساتذہ کی خالی اسامیوں کو گریڈ اور مضمون کے مطابق ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پورٹل کو اس کے اصل مقصد، یعنی اساتذہ کی مناسب تقسیم، کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ صرف تبادلوں کے ایک ذریعہ کے طور پر۔‘‘
جموں و کشمیر کے 3100 سے زائد سرکاری اسکولوں میں گزشتہ چار سال میں داخلے صفر یا 10 فیصد سے کم