عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے منگل کے روز کہا ہے کہ ارکانِ اسمبلی کی سیکورٹی پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور حالیہ سیکورٹی واپسی کے فیصلوں پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔جموں میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندوں اور مرکزی دھارے کے سیاسی رہنماؤں کو سیکورٹی فراہم کرنے کی بنیاد صرف خطرے کا جائزہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ زمینی حقائق کے بجائے صوابدیدی فیصلے انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
نائب وزیر اعلیٰ نے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی کہ وہ خاص طور پر ماضی میں سیاسی شخصیات پر ہونے والے عسکریت پسندانہ حملوں کے تناظر میںسیکورٹی واپس لینے کے فیصلے کا ذاتی طور پر جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی ارکانِ اسمبلی پہلے بھی نشانہ بن چکے ہیں، اس لیے احتیاطی رویہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے کی سیکورٹی صورتحال کو مکمل طور پر معمول پر نہیں کہا جا سکتا۔ سرکاری اعترافات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی برقرار ہے، اس مرحلے پر سیکورٹی میں کمی مناسب نہیں۔سریندر چودھری نے سیکورٹی انتظامات میں یکسانیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام ارکانِ اسمبلی کو خطرے کے تخمینے کے مطابق بلا امتیاز تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے ایسے افراد کو سیکورٹی فراہم کیے جانے پر بھی سوال اٹھایا جو مرکزی دھارے کی سیاست میں واضح کردار نہیں رکھتے، اور اس ضمن میں شفافیت اور معقولیت کی ضرورت پر زور دیا۔ایم ایل اے سجاد غنی لون کے اسمبلی میں بیان پر ردعمل دیتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لون خود عسکریت پسندی کا شکار رہ چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی۔