سمت بھارگو
راجوری// ضلع راجوری میں ایک 25 سالہ نوجوان کی پراسرار موت نے علاقے میں سنسنی پھیلا دی، جس کے خلاف لواحقین اور مقامی لوگوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے جموں-راجوری-پونچھ نیشنل ہائی وے کو بند کر دیا۔متوفی کی شناخت امن شرما ولد راشپال شرما سکنہ چکلی کے طور پر ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امن اتوار کے روز اپنے دوستوں کے ساتھ سالگرہ منانے کے لیے گھر سے نکلا تھا لیکن واپس نہیں لوٹا۔
پیر کی صبح اس کی لاش چکلی کے قریب ایک پل کے نیچے مشتبہ حالت میں برآمد ہوئی۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) سے وابستہ ہسپتال راجوری منتقل کر دیا۔ادھر واقعے کے خلاف لواحقین اور مقامی افراد نے چکلی دھنواں کے مقام پر احتجاج شروع کر دیا اور جموں-راجوری-پونچھ نیشنل ہائی وے کو تقریباً تین گھنٹوں تک بند رکھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ نوجوان کی موت مشتبہ حالات میں ہوئی ہے اور اس کے پیچھے کسی سازش کا خدشہ ہے، لہٰذا معاملے کی غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کی جائیں۔احتجاج کے دوران متاثرہ خاندان نے مالی امداد کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے وسائل نہیں رکھتے۔سینئر پولیس افسران موقع پر پہنچے اور مظاہرین کو یقین دلایا کہ پولیس اسٹیشن راجوری میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پولیس پوسٹ چنگس کے ذریعے مزید تحقیقات جاری ہیں۔دریں اثنا، اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) راجوری جہانگیر خان کی قیادت میں سول انتظامیہ بھی موقع پر پہنچی اور خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ قانون کے مطابق مالی امداد فراہم کی جائے گی۔حکام کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین نے احتجاج ختم کر دیا اور شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا، تاہم علاقے میں غم و غصہ کی فضا برقرار ہے اور عوام انصاف کے منتظر ہیں۔