سمت بھارگو
راجوری// ضلع راجوری میں پیر کی صبح ہونے والی درمیانی سے شدید بارش اور ژالہ باری نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا۔ اچانک بدلتے موسم نے نہ صرف شہریوں کو پریشانی میں مبتلا کیا بلکہ ٹریفک اور روزمرہ سرگرمیوں میں بھی خلل ڈال دیا۔محکمہ موسمیات کی جانب سے پہلے ہی خراب موسم کی پیش گوئی کی گئی تھی، اور حالات بڑی حد تک اسی کے مطابق سامنے آئے۔
صبح سویرے ہلکی بارش کا آغاز ہوا جو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی، بعد ازاں اس میں شدت آ گئی اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ اسی دوران مختلف علاقوں میں ژالہ باری بھی ہوئی جس نے موسم کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا۔مسلسل بارش اور ژالہ باری کے باعث کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا، خاص طور پر وہ علاقے جہاں نکاسی آب کا نظام کمزور ہے، وہاں صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ سڑکوں پر پانی بھر جانے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور لوگوں کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مقامی لوگوں کے مطابق اچانک موسم کی خرابی نے بازاروں میں بھی رش کم کر دیا اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ کئی مقامات پر بجلی کی فراہمی میں بھی خلل کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس سے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔دوسری جانب، اگرچہ اس خراب موسم نے وقتی طور پر مشکلات پیدا کیں، لیکن بیشتر مقامی افراد نے بارش کو خوش آئند قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ بارش سے اس سال کے دوران ہونے والی بارش کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی، جس کا براہ راست فائدہ زراعت کے شعبے کو پہنچے گا۔کسانوں نے امید ظاہر کی کہ یہ بارش فصلوں کے لیے مفید ثابت ہوگی اور آنے والے دنوں میں پیداوار میں بہتری آئے گی۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کی بارش زمین کی نمی کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے، جو کہ زرعی سرگرمیوں کے لیے نہایت اہم ہے۔انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
پونچھ قصبہ بارش سے زیرِ آب، نکاسی نظام جواب دے گیا، شہری بے حال
نالیاں بند، سڑکیں تالاب میں تبدیل، کاروبار متاثر،انتظامیہ سے فوری اقدامات کا مطالبہ
حسین محتشم
پونچھ// ضلع پونچھ میں پیر کے روز ہونے والی شدید بارش نے جہاں موسم کو خوشگوار بنا دیا، وہیں شہری زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ مسلسل اور تیز بارش کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں نکاسی آب کا نظام بری طرح ناکام ہو گیا، جس کے نتیجے میں نالیوں کا گندا پانی، کچرا اور ملبہ سڑکوں پر بہنے لگا اور آمد و رفت شدید متاثر ہوئی۔صبح سے جاری بارش نے دیکھتے ہی دیکھتے گلیوں اور سڑکوں کو پانی سے بھر دیا۔ کئی نشیبی علاقوں میں صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب بند نالیوں کے باعث پانی کی نکاسی ممکن نہ رہی اور سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔ شہریوں کو گھروں سے نکلنے میں دشواری پیش آئی جبکہ پیدل چلنے والے افراد کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مقامی لوگوںکا کہنا ہے کہ نکاسی آب کے ناقص انتظامات اور نالیوں کی بروقت صفائی نہ ہونے کے باعث معمولی بارش بھی بڑے مسئلے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق متعلقہ محکمہ کی لاپرواہی کی وجہ سے گندگی اور ملبہ نالیوں میں جمع رہتا ہے، جو بارش کے دوران پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ بنتا ہے۔دوسری جانب دکاندار طبقہ بھی اس صورتحال سے شدید متاثر ہوا ہے۔ بازاروں میں پانی جمع ہونے اور گندگی پھیلنے کے باعث گاہکوں کی آمد کم ہو گئی، جس سے کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئیں۔ کئی دکانداروں نے شکایت کی کہ پانی دکانوں کے اندر داخل ہونے سے انہیں مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔رہائشی علاقوں میں بدبو اور تعفن نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ والدین نے تشویش ظاہر کی کہ بچوں کو اسکول جانے میں دشواری کا سامنا ہے جبکہ گندے پانی کے باعث مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ماہرین کے مطابق نکاسی آب کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی نہ صرف شہری سہولیات کو متاثر کرتی ہے بلکہ یہ صحت عامہ کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نالیوں کی باقاعدہ صفائی، سیوریج نظام کی بہتری اور بارش کے پانی کے بروقت اخراج کے لیے جامع حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فوری صفائی مہم چلائی جائے اور نکاسی آب کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ آئندہ بارشوں کے دوران عوام کو اس قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بصورت دیگر، خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں صورتحال مزید گھمبیر ہو سکتی ہے۔