عظمیٰ نیوزسروس
جموں//نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ پارٹی عوام کو کچھ دینے کے بجائے غیر ضروری مسائل اٹھا رہی ہے۔ ہفتہ کے روز جموں میں پریس کانفرنس کے دوران انہوںنے کہا کہ بی جے پی کے پاس عوام کے لیے کوئی ٹھوس ایجنڈا نہیں ہے اور وہ غیر اہم معاملات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے۔ انہوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ بی جے پی سے اصل سوالات کریں، جیسے کہ کتنے بیرونی افراد نے جموں و کشمیر میں زمین خریدی ہے اور کتنے نے سرکاری ملازمتیں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخابی جلسوں میں جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب تک اس حوالے سے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔چوہدری نے بی جے پی کو دربار موو کے خاتمے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جسے انہوں نے ایک اہم انتظامی فیصلہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی نے جموں و کشمیر کے عوامی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے اور میڈیا کے کچھ حلقے اس جماعت سے اصل سوالات نہیں پوچھ رہے، جس پر انہوں نے تشویش ظاہر کی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے یہ بھی کہا کہ نیشنل کانفرنس کو “انٹی جموں” قرار دینا بی جے پی کی سیاسی حکمت عملی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے جموں و کشمیر کے عوامی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ چوہدری نے افسوس ظاہر کیا کہ جموں کے عوام نے نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ پر حالیہ حملے کی مذمت نہیں کی، جو ان کے بقول ایک افسوسناک رویہ ہے۔